مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 435 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 435

نکلنے تھے وہ نکل چکے۔ہاتی جتنے دیں تم نے دیکھتے ہیں وہ سب گمراہی پر ہیں۔پھر زید وہاں سے مکہ واپس آگئے۔مگر افسوس کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی گئے۔وہ دعا کیا کرتے تھے۔کہ اسے اللہ اگر مجھے تیری عبادت کرنے کا طریقہ معلوم ہو جاتا تو ہیں اسی طرح تیری عبادت کرتا۔مگر افسوس کہ مجھے کچھ خبر نہیں۔حضرت عمران کے والد خطاب نے ان کو مکہ سے ڈور ڈال دیا تھا۔بیچارے پہاڑیوں پر رہا کرتے تھے۔اور کبھی کبھی چھپ کر شہر میں بھی آجایا کرتے تھے۔کون ہے اس سے زیادہ خوش نصیب یار کے قدموں میں نکلے جس کا دم جب اُحد کی لڑائی میں بڑا گھمسان ہوا۔اور کافروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو مصعب نے آپ کے آگے سے دشمنوں کو مٹانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ خود شہید ہو گئے۔اور ابو دجانہ رض جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے۔دبھی بہت زخمی ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو صدمہ پہنچا۔آپ کے دندانِ مبارک شہید ہو گئے اور ہونٹ زخمی ہو گیا۔اس وقت آپ نے فرمایا۔کوئی ہے جو اس وقت ہمارے لئے اپنی جان قربان کر ے۔پانچ انصاریوں کی جماعت لبیک لبیک حاضر حاضر کہتی ہوئی آگے کو لپکی۔ان میں ایک صحابی زیادہ بھی تھے۔یہ لوگ کفار کے حملہ سے آپ کی حفاظت کرتے رہے۔اور ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح شمع کے اوپر شار ہو کہ گرتے گئے۔یہاں تک کہ زیاد کے سوا باقی سب شہید ہو گئے۔آخر یہ بھی لڑتے لڑتے زخموں سے چور ہو کر گر پڑے۔اتنے میں اور مسلمان آپ کی حفاظت کو پہنچ گئے۔اور انہوں تے مارتے مارتے دشمنوں کو ذرا پیچھے ہٹا دیا۔اس وقت زیاد ابھی سسک رہے تھے۔