مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 433 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 433

۴۳۲ بیوقوفی کی حد ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے خاندان کے لوگ ایک ثبت کی پوجا کیا کر تے تھے۔اس بت کا نام یغوث تھا۔اسی طرح ایک سیسے کا بت دوسرے خاندان کے پاس تھا۔اس کی شکل عورت کی طرح تھی۔ایک اور ثبت کو بھی ہم پوجا کرتے تھے۔اس کا نام ذوالخلصہ تھا۔ان کے سوا ہم پتھروں کی بھی پوجا کیا کرتے تھے۔جہاں کہیں اچھا سا پتھر دیکھتے اُسے اُٹھا لیتے۔پھر جب اس سے زیادہ کوئی اچھا پھر مل جاتا تو پہلا پتھر پھینک دیتے اور نئے کی پوجا کرنے لگتے۔جب سفر میں ہمارے اونٹ پر سے ایسا کوئی پتھر اسباب میں سے نکل کر گر پڑتا۔تو ہم کہا کرتے کہ ہمارا خدا گر پڑا۔اب کوئی اور پھر ڈھونڈو۔غرض یہی بیہودگیاں رہا کرتی تھیں۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے مبعوث ہو کر ہم کو ان باتوں سے نجات دی۔دختر کشی کی سزا ایک صحابی ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ میری والدہ زمانہ جاہلیت ہی میں مرگئیں۔مگر وہ بڑی نیک اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنے والی اور خوبیوں والی بی بی تھیں۔کیا ہم امید رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بخش دیا ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ تو بتاؤ کہ کبھی انہوں نے کسی لڑکی کو زندہ در گور مینی کیا تھا یا نہیں یہ اس صحابی نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ یہ کام تو انہوں نے کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔پھر تو وہ دوزخ کی سیر کہ رہی ہیں۔