مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 431
۴۳۰ میں سیدھا میدان جنگ میں پہنچا۔اور کافروں سے لڑ کر اس حال کو پہنچا۔یہ جنگ میں نے صرف اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لئے لڑی تھی پھر انہی زخموں سے ان کی وفات ہو گئی۔سو یہ ایسے بنتی ہیں کہ جنہوں نے ایک نماز بھی نہیں پڑھی تھی۔حضرت علی منہ کا اسلام د روزنامه المفضل ۲۲ مئی ۱۹۲۸ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سب سے اول پہلے دن حضرت خدیجہ ایمان لائیں۔اور آپ کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی۔ان دنوں حضرت علی بھی آپ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔جب انہوں نے دونوں کو نماز پڑھتے دیکھا تو عرض کیا کہ اسے بھائی یہ کیا چیز ہے۔آنحضرت نے فرمایا کہ یہ خدا کا دین ہے۔جو اس نے انسانوں کے لئے پسند کیا اور اپنے پیغمبروں کو اس کی تبلیغ کے لئے بھیجتا ہے۔میں نہیں اس اللہ کی طرف اور اس کی عیادت کی طرف بلاتا ہوں اور لات و عزیٰ سے انکار کرنے کی ترغیب دیتا ہوں حضرت علی نے کہا یہ تو ایسی بات ہے جو آج سے پہلے میں نے نہیں سنی تھی۔اس لئے ہمیں اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک اپنے باپ ابو طالب سے مشورہ نہ کر لوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ جب تک ان کو ان کے ظاہر کرنے کا حکم نہ ہو۔لوگوں میں افشائے راز ہو جائے۔آپ نے فرمایا۔کہ اسے علینہ اگر تم اسلام نہیں لاتے تو کم از کم اس بات کو ابھی پوشیدہ رکھو۔اس پر حضرت علی نہ اس بات کو خاموش رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی۔اور صبح اٹھ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اسے محمد کل آپ نے مجھے کیا کہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے کا جتنا کہ تم شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔وہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور لات و عزیٰ کا انکار کہ وہ حضرت علی رڑ نے اس کو منظور کر لیا اور اسلام لائے ، اس وقت حضرت علی غم کی عمر اس برس کی تھی اور حضرت خدیجہ کے دوسرے دن