مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 426
۴۲۵ آپ نے فرمایا۔عزیز کیوں روتے ہو۔وہ بولے یارسول اللہ کیوں نہ روؤں۔آپ کی تو یہ حالت۔اور قیصر و کسر کی دُنیا کے مزے اُڑا رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے عمران کی تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمارے لئے آخرت ہو۔اور اُن لوگوں کے لئے صرف دنیا کے عیش و آرام ہوں۔ریہ مدینہ میں اس زمانہ کا واقعہ ہے۔جب مسلمانوں کو مقومات میسر آ چکی تھیں) آپ بیتی ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبیوں میں سے ایک نبی تھے ان کو اپنی قوم نے اتنا مارا کہ ان کے جسم کو لہو لہان کر دیا۔مگر وہ نبی است تکلیف پر بھی اپنے منہ پر سے ہو پونچھتے جاتے تھے۔اور کہتے جاتے تھے۔کہ اے اللہ میری قوم کو معاف کر انہوں نے نا واقعی میں یہ غلطی کی ہے۔حضرت عائشریف سے محبت کی وجہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی ایک بی بی صاحبہ نے عرض کی کہ آپ عائشہ سے کیوں سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عائشہ کے سوا اور کسی بی بی کے بستر میں نہیں ہوں۔تو مجھے وہی نہیں ہوتی۔یعنی عائشہ کے کپڑے اور وہ خود اتنی پاک صاف ہے۔کہ جب وہ میرے پاس ہوتی ہے تو وحی برابر آتی ہے۔دوسری بی بیوں کا یہ حال نہیں۔(اس سے یہ مطلب نہیں کہ دوسری عورتیں پاک صاف نہیں۔بلکہ یہ مطلب ہے کہ عائشہ کی ظاہری و باطنی پاکیزگی اس درجہ کمال کو پہنچی ہوتی ہے۔کہ وحی کا فرشتہ وہاں آنے سے نہیں رکتا۔دوسروں کی حالت ان سے کم ہے)