مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 425
۴۲۴ مهمان نوازی ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کا فرمان ہو کر آیا۔آپ نے اس کی خوب خاطر تواضع کی اور رات کو اوڑھنے کے لئے اپنا کپڑا بھی اُسے دیا۔اور اپنے ہاں ہی سلایا۔وہ نالائق علی الصبح ہی چلا گیا۔اور آپ کے دیئے ہوئے بہترے نت کو بھی شرارت سے پاخانہ کی نجاست سے بھر گیا۔دن چڑھے آپ نے اس کا حال دریات فرمایا تو معلوم ہوا۔کہ چلا گیا ہے۔اور بستر وغیرہ کو گندہ کر گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کپڑے کو لے کہ دھوتا اور صاف کرنا شروع کیا۔صحابہ نے عرض بھی کیا۔حضور ہم اسے صاف کردیں گے۔آپ نے فرمایا نہیں وہ میرا مہمان تھا۔اس لئے اس کی غلاظت کو صاف کرنا بھی میرا ہی حق ہے۔اتنے میں اس مہمان کو یاد آیا۔کہ ہمیں کوئی ضروری چیز وہیں بھول آیا ہوں۔واپس آگیا۔تو یا دیکھتا ہے۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی سنجاست خود صاف کر رہے ہیں۔آپ نے دیکھ کر کچھ شکوہ شکایت نہ کی۔بلکہ خندہ پیشانی سے پیش آئے۔یہ حالت دیکھ کر اس کے دل پر آپ کے اخلاق کا اتنا اثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گیا۔آپ نے اس کی گندگی کیا دھوئی کہ کفر سے ہی اُسے پاک کر دیا۔ر یہ واقعہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو سُنایا کرتے تھے) بادشاہ دو جہاں کی محل سرا کا ایک نظارہ ایک دفعہ حضرت عمرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے بالا خانہ پر حاضر ہوئے۔دیکھا۔کہ آپ ایک پور کیسے پر لیٹے ہیں اور سوائے تہہ بند کے اور کوئی کپڑا آپ کے بدن پر نہیں۔اور حیم پر یورکیے کے نشان پڑ گئے ہیں اور گھر میں سوائے سٹی پھر جو کے اور کھانے کی کوئی چیز نہیں۔حضرت عمرہ کی آنکھوں سے یہ حالت دیکھ کہ انتسورواں ہو گئے