مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 418 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 418

۴۱۷ اور جو لوگ اس کی جماعت میں ہیں۔وہ کافروں پر رعب رکھتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔تو ان کو دیکھتا ہے۔کہ وہ رکوع اور سجدے میں پڑے ہوئے۔خدا کا فضل۔اور اس کی رضا مندی طلب کرتے رہتے ہیں۔امان کے چہروں پر عبودیت الہی کے آثار چمکتے ہیں۔(4) لَقَدْ مَنَ الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِنَ الفُهِم يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتاب والحكمة ، وَ إِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَعَى قَلِلٍ مُّبِينِ د ال عمران : (۱۶۵) یعنی اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ ان میں سے ہی ایک رسول اُن کے لئے مبعوث کیا۔جو خدا کے کلام کی آیتیں ان کو سناتا ہے۔ان کو ہر قسم کی اخلاقی اور معافی گندگیوں سے پاک کرتا ہے۔اور انہیں کتاب اللہ اور حکمت کی باتوں کی تعلیم دیتا ہے جانا کہ اس کے آنے سے پہلے ہی لوگ سخت گمراہی میں مبتلا تھے۔(<) بِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ (ال عمران : ۳۱۰) یعنی یہ بھی خدا کی ایک بڑی رحمت ہے۔کہ اے رسول ! تو ان لوگوں کے لئے زم دل اور رقیق القلب ہے۔اگر تو خدا بھی سخت زبان یا سنگدل ہوتا۔تو یہ سب لوگ تیرے پاس سے بھاگ جاتے۔