مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 388
۳۸۷ کہہ دے تم ایک بڑی سخت بات کہہ رہے ہو۔-٤ وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّجُنِ أنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا رمم (۹۳) ترجمہ اور رضائے پر حمن کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنائے۔آیت اِهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيم کے متعلق جو بیان موجود ہے۔اس میں صراحتا اور نہایت واضح طور پر یہ آیت آتی ہے۔وَإِنَّ اللهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ، هَذَا صِرَاد مُّسْتَقِيمَ (مریم:۳۷) تیجہ، اور اللہ میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی رب ہے اُسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔نیزیہ آیت يَابَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَ فِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعُ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (مريم (۲۲) اراے عطا ترجمہ : اے میرے باپ! مجھے ایک خاص علم عطا کیا گیا ہے جو تجھے نہیں ملاپس رباد جو اس کے کہ میں تیرا بیٹا ہوں) تو میری اتباع کہ میں تجھے سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔پھر جو دعائیں ہیں وہ سب إِيَّاكَ نَسْتَعِین کے ماتحت ہیں۔مثلاً حضرت ذکرہ یا اور حضرت مریم کی تفصیلی دعائیں ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول کہ وَادْعُوا رَتي سے عَلَى الَّا اكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا (مریم (۴۹) ترجمہ ، اور صرف اپنے رب کے حضور دعائیں مانگوں گا (اور) یقیناً میں اپنے رب کے حضور دعا کرنے کی وجہ سے بد نصیب نہیں بنوں گا۔اسی طرح ايَّاكَ نَعْبُدُ کی تفسیر اور ذکر میں ا عنده ذكريا