مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 382
٣٨١ الله اور القص در حقیقت ایک ہی چیز ہیں۔الہ میں اَنْعَمْتَ عَلیم مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور ضالین گروہوں کا ذکر ہے اور القص میں ان کے راستے اور طریقہ (ص = صراط) کا بھی ذکر ہے۔چنانچہ املی کی چالاکیاں، سبت والوں کے کر۔انبیا کے مخالفین کے حیلے بنی اسرائیل کا بگڑانا۔سامری کی شرارتیں وغیرہ میں صحواط یعنی طریقہ کا حصہ زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ورنہ آیت کے لحاظ سے القدس بھی آیت نبری ہے اور القص بھی آیت نمبر ، ہے اور القص میں شیطان کہتا ہے لَا تُعدَنَ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (الاعراف (1) توجہ ، اس لئے میں ان (انسانوں) کے لیے تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھ جاؤں گا۔اور شعیب کی قوم کو حکم ہوتا ہے + وَلا تَقْعُدُنا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوَعِدُوْنَ وَتَصُدُّونَ عَن سبيل الله (الاعراف : ) ترجمہ : اور ہر درستہ پر ( اس نیت سے نہ بیٹھا کرو کہ جو اللہ پر ایمان لائے اس کو اللہ کے راستے سے ڈراؤ ترض ان طریقوں کا ذکر ہے جن کی وجہ سے ان لوگوں کی چالاکیوں سے صراط مستقیم مشتبہ ہو جائے۔سورة رعد كا الهواية السر والی سورتوں کی جماعت میں داخل ہے نہ کہ الشعر والی جماعت ہیں۔کیونکہ اس کے آگے آیت کا نشان نہیں بلکہ یہ نامکمل آیت ہے اور آگے صرف علامت وقف ہے پس اسرا کے مطابق اس میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے اذکار کے علاوہ قریباً ساری سورت میں کفار مکہ (یعنی مغضوب عليهم کے گروہ) کو ہی مخاطب کیا گیا ہے۔