مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 375
i ترجمہ : یہ ایعنی اس سورۃ کی آیات) ایک مدلل کتاب کی آیات ہیں۔لهُ مَا انْزَلْنَا عَلَيْكَ القُرْآنَ لِتَشْقَى له ۳۰۲) ترجمہ ہم نے تجھ پہ (یہ) قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو دکھ میں پڑھائے۔وغیرہ میں طے اور جسم اور السم پوری آیت ہے کیونکہ اس کے بعد آیت کا نشان ہے۔مثلا ممکن ہے کہ طئے اختصار ہو۔اهْدِنَا الصراط المستقیم کا جو ایک پوری آیت ہے۔یا السر اختصار ہو الحمد کی آخری آیت کا۔جیسے کہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے يا حسم اشارہ ہو - اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ O ملك یوم الدین۔تین آیات کا جو مجموعہ ہیں۔اسم اعظم اقم الصفات الہتہ کا۔لیکن ہیں یہ سب پوری آیتوں کے نمائندے۔بر خلاف اس کے جن مقطعات کے آگے صرف وقف کا نشان ہے اور آیت کا نشان نہیں ہے۔مثلاً ا من وَالْقُرانِ ذى الذكي (ص (۲) ذِي ) ۰۳ الريف تِلْكَ أَنتَ الْكِتَبِ الْمينينِ (يف : وقف وَالْقُرانِ الْمَجِيدِ ه ر ٣٠) تف تو ظاہر ہے کہ یہاں حق باقی یا السر فاتحہ کی کسی پوری آیت کے نمائندہ نہیں ہیں۔بلکہ صرف کسی لفظ خاص کے یا لبعض الفاظ کے نمائندہ ہیں۔کیونکہ السر اور تلك آيات الكِتَابِ الْمُبِینِ مل کر قرآن کی صرف ایک آیت محسوب ہوتی ہے۔پس یہ مقطعات خود پوری آیت نہیں ہیں۔بلکہ بعض بعض خاص الفاظ کے نمائندے ہیں۔مثلاً غالباً ص سے مراد صرف صراط ہے اور ق سے مراد صرف مستقیم ہے اور اس سے مراد غالبا صرف اللہ اور رب ہے۔یا ممکن ہے کہ کوئی اور لفظ ہوں۔مگر یہ پانچ مقطعات خود پوری آیت نہیں ہیں۔اور ن جیسے میں نے پہلے بیان کیا ، نہ آیت رکھتا ہے نہ وقف، اور اپنی