مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 371 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 371

٣٤٠ کر چکا ہوں کہ الم سے مراد الْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور ضالین اور مغضوب علیہ لوگ ہیں۔یعنی الف سے مراد العمتَ عَلَيْهِم اور ل سے ضالین اور مر سے مراد مغضُوبِ عَلَيْهِمْ - لیکن سورہ فاتو میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا ذکر پہلے ہے اور ضالین کا آخر میں۔میں بظا ہر مقطعہ کی شکل امل ہونی چاہئیے بھی۔مگر چونکہ اس میں ترتیل اور روانی نہیں رہتی۔اور چونکہ ہر حرف کسی لفظ یا آیت کا اختصار ہے۔دوسر حروف کا پابند نہیں ہے۔اس لئے یہ عایت روانی تلاوت و ترتیل وہ آگے مجھے ہوسکتا ہے۔مثلا کھیعص مفصلہ ذیل تین آیات کا اختصار ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَرايَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ الْمَتَ عَلَيْهِمْ۔۔۔۔۔۔اصلی ترتیب کے لحاظ سے اسے کھیعص ہونا چاہیے۔لیکن چونکہ تلاوت کی روانی اور ترتیل میں حرفت مین پر سخت ناگوار ٹھو کہ لگتی تھی۔اس لئے ترتیب حروف بدل دی۔پس یہ ضروری نہیں کہ یہ حروف آیات ہی کی ترتیب کے موافق ہوں۔بلکہ وہ ترتیل اور قرآت کی سہولت کے مطابق ہوں گے۔اسی طرح خط جو اهدنا المستقيم کا مخفف ہے۔بجائے ملک کے طلط پڑھا جائے گا۔کیونکہ یہ معاملہ خوش آوازی اور ترتیل سے پڑھنے کے متعلق ہے۔ایک مقطعہ کئی معنوں اور کئی مقاموں کے لئے آسکتا ہے دوسری بات مقطعات میں یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک مقطعہ یا ایک حرف مقطعہ بعینہ ایک ہی آیت یا ایک ہی لفظ کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔گویا کہ وہ ایک معرفہ کی طرح ہو جائے۔بلکہ جس طرح ریلوے میں این ڈبلیو آر (N۔WR) سے مراد نارتھے ولیسٹرن ریلو سے تو ہے۔مگر یہ ضروری نہیں کہ جہاں کسی ریل کے ڈبہ پر ان کا حرف دیکھا وہاں ہمیشہ اس کے معنی نارتھ ہی لئے جائیں۔ایک ہی مال گاڑی کے ایک ڈبہ میں این ڈیلیو