مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 338 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 338

۳۳۷ موت اور نیند میں قبض روح کا فرق سورہ زمر میں آتا ہے۔الله يتوفى الْاَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَ الَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الأخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى ( الزمر ۴۳۰) یعنی اللہ تعالیٰ جانوں کو قبض کرتا ہے۔ان کی موت کے وقت اور جو نہیں مرتیں ان کی جانوں کو نیند میں قبض کر لیتا ہے۔پھر ان روحوں کو تو روک لیتا ہے۔جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے گر دو سری ارواح کو واپس بھیج دیتا ہے۔ایک وقت مقررہ تک۔اس آیت کے متعلق بعض مشکلات پیش کی جاتی ہیں۔چونکہ یہ آیت اکثر لفظ توفی کی بحث میں بھی آتی ہے۔اور اس میں بعض اور معنوی دقتیں بھی ہیں۔اس لئے میرا جی چاہا۔کہ وہ معنی اپنے احباب کے علم میں بھی لے آؤں جن سے قبض روح اور روح کی واپسی نیز سونے والے اور مرنے والے میں جو فرق ہے۔وہ واضح ہو جاتا ہے۔اس آیت کا پہلا حصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روح پر موت اور نیند کے وقت پورا پورا قبضہ کر لیتا ہے۔یہاں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ کیا جاگنے میں خدا کا قبضہ روح پر کام نہیں ہوتا ہے سورواضح ہو کہ یہاں کامل قبض روح یعنی تونی سے یہ مراد ہے کہ وہ روح ان دونوں حالتوں میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتی ہے۔اور اس کی اپنی مرضی اپنے جو اس اپنی حرکات اپنی خواہش اپنا عمل سب کچھ جاتا رہتا ہے۔مرنے والی روح نہ سن سکتی ہے۔نہ بول