مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 337
اس محملت کو مد نظر رکھ کہ اللہ تعالٰی بھی جو ان کا خالق فطرت ہے ان کو بہت جلدی ہی نشانات الہیہ دکھائے گا۔لیکن اس کے لئے بھی یہ مناسب نہیں کہ وہ ناروا اور نا جائزہ جلدی اور محبت کریں جیسے مثلاً مباہلہ کے موقعہ پر خدا تعالیٰ نے انسانوں کی بے صبر اور جلد باز فطرت کے مطابق ایک سال مذاب کی میعاد رکھ دی ہے۔اور واقعی یہ بہت تھوڑی معیاد ہے لیکن بے صبر اور جلد باز انسان چاہتا ہے۔کہ تین دن میں مباہلہ کا فیصلہ ہو جائے یا یہ کہ مباہلہ کی مجلس سے منتشر ہونے سے پہلے ہی ہم پر آگ برسنی شروع ہو جائے یا زمین ہم کو نگل جائے ہو اللہ تعالٰی نے قلاتستعجلون فرما کر اس ناجائز اور نامناسب جلدی سے منع فرمایا ہے دور نہ تساود یکم تو خود ہی فرما دیا ہے کہ چونکہ تم جلد باز فطرت رکھتے ہو۔اور میں نے ہی نہیں یہ فطرت دی ہے۔اس لئے میں خود تم کو نشانات دکھانے میں جلدی کر رہا ہوں۔پس تم بھی اتنی مہربانی رکھتا کہ ناجائز اور نامناسب اور بے ہو وہ جلدی نہ کرتا جیسے بعض ملازم کیا کرتے ہیں کہ ان کو گر ہرماہ کی پہلی تاریخ کو ان کا آقا محض اس لئے تنخواہ دے دیتا ہے کہ انہیں گھبراہٹ نہ ہو۔تب بھی وہ نالائق نوکر ۲۰ - ۲۲ تاریخ سے ہی مطالبہ شروع کر دیتے ہیں۔سوالیسی نا جائز تھیل سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔اور جو فطرتی اور جائز تعمیل انسان میں ہوا کرتی ہے۔اس کے متعلق خود ہی تسلی دے دی ہے۔کہ مجھے معلوم ہے کہ تم جلد باز پیدا کئے گئے ہو۔اس لئے میں بھی جلدی ہی تمہیں نشانات دکھاؤں گا۔نامناسب تاخیر اور دیر نہیں کروں گا ، گویا اس آیت میں ساور یکم کے س کے صحیح معنوں کی طرف خیال نہیں کیا تھا۔اور وہ میرے دوست زید نے اپنے رویہ اور تقریر سے حل کرا دیئے۔فجزاہ اللہ یاد رہے کہ لا تستعجلون کے لفظ میں جو تعمیل ہے وہ ایسی ہے۔جس کی بابت بزرگوں نے فرمایا ہے کہ بے تعمیل کار شیاطین بوو احد استعمال کے معنی یہاں یہ ہوں گے کہ فطرتی علت سے بھی دو قدم آگے نکل جانا لینی نا مناسب اور ناجائز جلد بازی۔الفضل 4 فروری ۱۹۴۴ء)