مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 324
نہانے والا پانی ہے جو ٹھنڈا بھی ہے اور پینے کے قابل بھی (یعنی صاف ہے) اور آگے ایک جملہ معترضہ جو قرآن مجید کی عام عادت ہے لاکر چو تھا جو اس نسخہ کا بتایا۔- وَخُذُ بِيَدِكَ ضِعْنَا فَاضْرِبْ بِهِ رض : ۴۵) ترجمہ ، اور (ایوب سے کہا کہ اپنے ہاتھ میں ایک کھجور کی کیتھے دار ٹہنی پکڑے اور اس کی مدد سے تیزی کے ساتھ سفر کہ (یعنی اس سے مار مار کر سواری کے جانور کو دوڑا۔یہ چار جسمانی علاج اس مرض کے خدا نے ان کو بتائے اركضُ بِرجُلِكَ پہلا علاج تگی کے مشہور لغوی معنے دوڑنا اور تیز چلنا بھی ہیں۔اور سب لغات میں لکھے ہیں۔قرآن مجید نے بھی دوسری جگہ ہی معنے کئے ہیں چنانچہ فرمایا لا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَى مَا أَخْرِفْتُم فِيهِ (انبياء (۱۳) ترجمہ : (تب ہم نے کہا) دوڑو نہیں ، اور ان چیزوں کی طرف جن کے ذریعہ سے تم آرام کی زندگی بسر کرتے تھے۔پس حکم یہ ہوا۔کہ اس بیماری کے لئے تم تیز قدم یا دور کر چلا کرد۔اگر صرف از گلش ہوتا توشیبہ پڑسکتا تھا کہ سواری پر سیر کیا کہ وہ گھوڑا دوڑایا کرو۔بیل گاڑی پر ہوا خوری کیا کرو۔مگر برجلك کہہ کر واضح کر دیا کہ ان میں سے کوئی بات بھی کہنے والے کی مراد نہیں ہے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ اپنے پیروں سے یعنی پیدل سیر کیا کرو۔پیدل تیز رفتاری سے چلا کرو۔کیونکہ نہ صرف اس مرض کے لئے تازہ ہوا اور فنا ضروری ہے۔بلکہ پیل چلنا بھی ضروری ہے۔اس سے نہ صرف علاج کی نوعیت معلوم ہوگئی بلکہ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ایسے بیمار تھے کہ شدت مرض کے چند دنوں کے بعد وہ چل پھر سکتے تھے۔اور ان کی انگلیاں