مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 285 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 285

۲۸۴ جی ہیوں کو دی جاتی ہے اور پھر اس سلوک کے ساتھ فخریہ یہ کہا جاتا ہے کہ شریف عورت کی علامت یہ ہے کہ بیاہ ہو کر خاوند کے گھر آئے تو پھر مر کو لاش ہی اس گھر سے نکلے۔حالانکہ یہ تو بے جیا اور یہ کہ دار عورتوں کی سترا ہے !!! اب اسلامی پردہ کی حدودشن لیں ا۔امہات المومنین کا پردہ اپنے گھروں میں ایک خاص امہات المومنین کا پردہ نہ وہ یہ کہ اُن کے لئے قرآن میں حکم آگیا تھا کہ کوئی نا محرم شخص ان کے گھروں میں داخل نہ ہو۔اور انہیں کہا گیا تھا کہ تم اپنے گھروں میں ہی ہو اور بن مشن کر یا جاہلیت کے زمانہ کا سنگار نہ کیا کرو بلکہ اپنی حالت اور لباس سادہ رکھو اور لوگ کسی کام کے لئے یا علم حاصل کرنے کو آدیں تو دروازہ کے باہر سے ہی آواز دے کر اپنا کام بتا دیا کریں یا سود و غیرہ لے دے لیا کریں۔یہ مسئلہ پوچھ لیا کریں۔اور مسئلہ کا جواب دینے میں ایسی باتیں کرنے میں لجاجت اور نرمی کا لہجہ نہ اختیار کریں بلکہ ایسا جیسے اُستاد کا لب ولہجہ ہوتا ہے۔دروازہ پر پردہ پڑا رہ ہے۔اور سوائے اشد ضرورت کے باہر نہ نکلا کی ہیں۔باہر نکلنے کے وقت کا پردہ سب کا دوسرا پر وہ باہر نکلنے کا : یہ سب شریف عورتوں پر حاوی ہے یعنی امہات المومنین پر بھی جب وہ اشد ضرورت کے لئے نکلیں اور عام مومنات کو تو کوئی باہر نکلنے کی شرعی روک ہی نہیں۔اُن کے لئے۔اس میں یہ ہدایات ہیں کہ جب گھر سے باہر نکلیں تو اپنے گھر کے لباس کے اوپر ایک بڑی چادر" (جلباب) اوڑھ لیا کریں۔یہ اس لئے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ شریف عورت آرہی ہے تو اس کو آسانی سے راستہ پیرہ سے گذر جانے دیں اور ان