مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 207 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 207

کرنے والوں کی ربوبیت سے بے انتہا وسیع ہے۔اگر اس کا علم ہے۔تو وہ غیر محدود اور ہر چیز پر سر وقت مادی ہے۔اور علم رکھنے والی دوسری مخلوقات سے بے انتہا درجے زیادہ بڑھا ہوا ہے۔غرض یہ کہ وہ اپنی سبوحیت اور قابل تعریف صفات میں اکبر ہے۔یعنی سب سے بعید زیادہ بڑھا ہوا ہے۔اگر حاتم کی سخاوت مشہور ہے تو خدا کی سخاوت اکبر ہے۔اگر رستم کی طاقت بہت تھی۔تو خدا کی اکبر ہے۔اگر دنیا میں کسی انسان کا علم بہت وسیع ہے تو خدا کا علم اس سے بھی اکبر ہے۔بلکہ قابل تعریف چیز جو کسی کے پاس ہے وہ خدا ہی کی بخشش اور اسی کے خزانہ کا ایک عطیہ ہے۔پس جو خوبی بھی نہیں کہیں نظر آتی ہے وہ خدا میں بدرجہ اعلیٰ کامل واتم پائی جاتی ہے بلکہ اس کی صفات منع ہے مخلوقات کی ہر خوبی کا۔بلکہ اس کا حسن اصل ہے کائنات کے حسن کا۔پر اللہ اکبر کہتے وقت سبحان الله العظیم پڑھتے وقت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی سخت و اُن کی بٹائی اور عظمت کا بھی خیال رکھنا چاہیئے۔یہی وجہ ہے کہ صفات میں عظمت اور کبریائی والے اسماء تعداد عدوی سب سے زیادہ وار و ہوئے۔مثلا لب بُرُ، عَظِيمُ۔مُتَكَبَرُ، تاحُ مَجيد - ماجد - المُتَعَالى - ذوالجلال- اعلى رفيع الدرجات - ذو المعارج وغیرہ۔غرض الله آل بو کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں جب تک پڑھنے والا خدا تعالیٰ کو اپنی صفات حمیدہ میں عظیم الشان لا انتہا غیر محدود اور واقعی اکبر نہ سمجھے۔تهلیل تہلیل کے معنی ہیں لا الہ الا اللہ کا ذکر کرتا یعنی یہ کہ اللہ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں۔دہی اکیلا وجو د ہے جو ہمارا محبوب اور معبود ہو سکتا ہے اور ہے۔چونکہ اس کی ذات ہر عیب سے پاک اور ہر تعریف سے آراستہ ہے۔اور ہر تقدس اور ہر خوبی اس کی لا انتہا ، غیر محدودو اور اکبر ہے۔میں تک کوئی غیر اللہ پہنچ ہی نہیں سکتا۔اس لئے نتیجہ ظاہر ہے کہ اس کے سوا ہمارا کوئی معبود بھی نہیں ہو سکتا اور یہی توحید ہے۔جب وہی ہمارا خالق ہے اور وہی ہمارا