مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 152 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 152

۱۵۱ ۴۔پیارے خدا کا یہ محبت بھرا ارشاد اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وتم کے ذریعہ جب لوگوں تک پہنچتا ہے تو ان کے دل اس محسن اعظم کے اخلاق کریمانہ اور حسن مجسم کے انداز محبوبانہ پر شار ہو جاتے ہیں اور بے ساختہ درود و سلام ان کی زبانوں پر جاری ہو جاتا ہے۔میر صاحب بھی شیدایان حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صنف میں شامل ہو کر مدحت خیر الانام میں ایک ایسا ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں جو مقبولیت کے لحاظ سے نعتیہ شاعری کے میدان میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور جب تک محامد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دلوں کو گریانے کا فریضہ انجام پاتا رہے گا اور یہ سلسلہ تا قیام قیامت جاری رہے گا) میر صاحب کے اس " سلام مخصور سید الا نام صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔آپ کی محبت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم میں ڈوبی ہوئی ایک دوسری نظم ، آنچه خوبان همه دارند تو تنها داری بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اس کے علاوہ محمد مصطفے ہے مجتہے ہے۔اور دیگر نعتیہ کلام آپ کے اس گہرے قلبی لگاؤ کا آئینہ دار ہے جو آپ کو محبوب خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات ستودہ صفات سے تھا ه خلق مجم، محسن عالم حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ سلم کی محبت کا تقاضا تھا کہ حضور کے جلیل القدر فرزندید و حانی حضرت باقی سلسلہ سے بھی والہانہ عقیدت اور خادمانہ ارادت کا اظہار کیا جائے اور آقاصلی الہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کے بعد اس کے جلیل القدر خادم کی صفات کے بیان سے بھی دلوں میں گداز پیدا کیا جائے۔حضرت میر صاحب نے اس فریقیہ کی ادائیگی کو بھی ضروری خیال کرتے ہوئے اپنی متعد د نظموں میں بانی سلسلہ احمدیہ کو اپنی عقیدتمندی۔کا خراج پیش کیا ہے انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اپنے محبوب کے مسکن بلکہ اس شہر کی گلیوں تک سے محبت و عقیدت پیدا ہو جاتی ہے۔حضرت میر صاحب کا محبت پر ور اور عقیدت مند