مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 151
۱۵۰ کا لفظ اپنے شعر میں پیوند کر لینے سے نہیں ہچکچاتا تاہم اس کو سرقہ نہیں کہا جاسکتا۔بہت زیادہ حصہ ان نظموں کا ایسا ہے جو دراصل اپنے لئے کہی گئی ہیں نہ کہ اوروں کے لئے۔میری دُعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان اشعار کو ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لئے بھی مفید بنائے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے حضرت میر صاحب نے نہ صرف ظاہری اصنافی سخن میں طبع آزمائی فرمائی ہے بلکہ معنویت کے لحاظ سے بھی آپ نے متعد د اور متنوع موضوعات پر اپنی صوفی منشی کے جوہر دکھائے ہیں۔ذرا مندرجہ ذیل عنوانات پر نظر ڈالئے تا کہ آپ پر حضرت میر صاحب کی رجحانات شعری کے فہم میں آسانی ہو۔۔1 بنجار دل کی طرح محبت کا ایک آنسو بھی آپ کی ایک نہایت پاکیزہ نظم ہے۔جو مولا کا اپنے بندے سے پیار کا تعلق ظاہر کرتی ہے ۲- دعا بندے کا ایک آزمودہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ وہ طاقتور سے طاقتور دشمن پر غلبہ پالیتا ہے۔حضرت میر صاحب نے بھی دعائے من " دعائے سکھ عاجزانہ دعا ، ، دُعا برائے معرفت " نماز" وغیرہ نظموں میں قادر و توانا خدا سے مدد طلب کی ہے اور بندہ ، " میرے خدا » (طویل نظم) اور مناجات بدرگاہ قاضی الحاجات کے ذریعہ بندہ کا اپنے مولا سے تعلق قائم ہونے کے لئے استعانت طلب کی ہے۔معرفت الہی حاصل ہو جائے تو انسان ضعیف البنیان کو اپنی کمزوری اور ناطاقتی کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتا ہے اور وہ دُعا کے ذریعہ اپنے قادر خدا سے مدد کا طلب گار ہوتا ہے۔ارشاد باری تعالٰی :- ترجمہ و (اے میرے حبیب) تم لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ تعالٰی سے محبت کرتے ہو تو پھر میری اطاعت کرو۔اللہ تعالیٰ (اس کے نتیجے میں) تم کو اپنا محبوب بنائے گا۔