مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 120 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 120

۱۱۹ ایک تو میزبان خواہ مخواہ کی پریشانی اور تکلیف سے بچ جاتا ہے۔دوسرے اپنی مرضی کے مطابق بہتر مل جاتا ہے۔لوگ ہر مہمان کے لئے الگ الگ بستر تو مہیا نہیں کر سکتے۔اور مہمان مختلف طبیعت اور صحت کے ہوتے ہیں۔اس سے انسان کئی کاوشوں اور بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔پھر گورداسپور کا ہی ذکر ہے کہ حضرت میر صاحب کی رخصت ختم ہوئی تو ابھی ان کے کسی جگہ پوسٹنگ کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔اس لئے اُن سے کہا گیا کہ آپ گورداسپور ستال جنرل ڈیوٹی پر حاضر ہو جائیں۔جب انہوں نے مجھے کو یہ بتلایا۔تو میں نے کہا۔یہ تو پولیس کی لین حاضری ہے۔یہ اصطلاح آپ کو بہت پسند آئی اور مدت تک محبت سے اس کا ذکر کرتے رہے۔انہی دنوں میں وہ واقعہ پیش آیا۔جو بالخصوص میرے لئے ان سطور کے کھنے کا محرک ہوا ہے۔میں نے حضرت میر صاحب سے عرض کیا۔یہاں کے اسٹنٹ سرجن سے لوگ مطمئن نہیں۔اگر آپ کچھ کوشش کریں تو آپ نہیں لگ جاویں۔فرمایا میں کیوں کوشش کروں۔اس سے کیا فائدہ ہوگا۔میں نے کہا قادیان کے قریب رہیں گے۔ہر ہفتہ کے روز بائیسکلوں پر ہی قادیان جایا کریں گے۔اتوار وہاں گزار کہ پیر کو آجایا کریں گے۔فرمایا مجھے کیا معلوم ہے کہ قادیان کے قریب رہنا یا اس طرح قادیان جانا میرے دین و دنیا کے لئے مفید ہو گا۔میں تو وہاں ہی رہنا چاہتا ہوں۔جہاں میرا خدا مجھے رکھے۔وہ مجھ سے بہتر جانتا ہے کہ میرا کہاں رہنا مفید ہے۔اس سے نہ صرف میرا منہ بند ہو گیا۔بلکہ یہ بات ایسی میرے دل میں اتر گئی۔کہ بعد کی زندگی میں میرے بہت کام آئی۔اور بعد میں لسلسلہ ملازمت میرے تبادلے دُور دُور ہوئے تو مجھے کوئی صدمہ نہیں ہوا۔اور میں جھوٹا یہی سمجھتا رہا۔کہ جہاں میرا مولا مجھے رکھے۔وہی جگہ مفید ہے۔اس طرح حضرت میر صاحب کی بات سے مجھے بڑا مد خانی فائدہ پہنچا۔جب میرا تبادلہ گورداسپور سے حصار ہوا۔تو قادیان اور گھر سے دور جانے کی وجہ سے مجھے کچھ غم ہوا۔جسے بعد میں