مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 119 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 119

۱۱۸ اس کے بعد جب میں قادیان آتا تھا تو ڈاکٹر عباد اللہ صاحب مرحوم کے ساتھ جو میرے دوست تھے۔موگا میر صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوتا تھا۔پھر حضرت میر صاحب امرتسر میں ہاؤس سرجن مقرر ہوئے۔تو ان سے راہ و رسم زیادہ بڑھ گئی۔میرا برادر نسبتی بہت بیمار ہوگیا۔کئی ڈاکٹروںکو دکھلایا۔حتی کہ دو سول سرجنوں کو بھی۔وہ میرے کا مرض بتلاتے رہے۔میں نے حضرت میر صاحب سے ذکر کیا۔تو انہوں نے ازراہ مہربانی خر اس کو جا کر دیکھا۔اور ایک منٹ میں کہہ دیا۔کہ اس کے اندر تمام چیپ پڑی ہوئی ہے ہم نے کہا۔آپ کے سول سرجن نے تو اور مرض بتلائی ہے۔انہوں نے فرمایا میرے ساتھ ان کو بلایا جائے ، چنانچہ بلایا گیا۔سول سرجن صاحب حضرت میر صاحب کے دلائل سے فورا قائل ہو گئے۔اور اس مریض کا آپریشن کیا گیا۔جس سے چھ سات سیر پیپ نکلی۔مرض بہت بڑھ چکا تھا۔حضرت میر صاحب نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ گو صحت کی امید کم ہے۔مگر اس وقت بجز اپریشن کے اور کوئی علاج نہیں۔گو وہ مریض جانبر نہ ہو سکا۔مگر حضرت میر صاحب کی ذہانت اور قابلیت کا لوہا سب کو ماننا ئیا۔پھر جب میں گورداسپور نہیں تھا۔تو قادیان کے اکثر دوست جب وہاں کسی کام کو جاتے تھے تو میرے پاس ٹھہرا کرتے تھے۔ایک روز جو میں صبح کو بیٹھک میں آیا۔تو میں نے دیکھا کہ ایک صاحب ایک پاکیزہ بستر میں آرام سے سوئے پڑے ہیں۔تو کہ سے پوچھا۔کون صاحب ہیں۔تو اس نے کہا مجھے اتنا معلوم ہے، قادیان سے آئے ہیں۔اور سور ہے ہیں۔میں نے کہا تھا کہ آپ کو جگاؤں۔گھما نہوں نے فرمایا کہ مجھے صرف چار پائی دے دو۔اور ان کو بے آرام نہ کرو۔میں نے آگے بڑھ کر دیکھا۔تو حضرت میر صاحب تھے جب جاگے تو میں نے پوچھا۔مجھے جگایا کیوں نہ۔تو نہایت سادگی سے فرمایا۔مجھے صرف سوتا تھا۔جگہ مل گئی۔لیستر میرے ساتھ تھا۔آپ کو تکلیف دینے کی ضرورت نہ تھی۔یہ بھی فرمایا کہ ہمارے ہاں دستور ہے کہ جب کہیں باہر جائیں تو اپنا بہتر ساتھ لے جاتے ہیں۔اس سے