مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 115 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 115

۱۱۴ احباب میں بیٹھتے تو نہایت عمدہ جاذب اور موثر انداز میں قرآن مجید کے نکات بیان کرتے اور اسی طرح وعظ نصیحت فرماتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح اور حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے حالات کا اس محبت سے ذکرہ کرتے کہ سامعین کے دل پگھل جاتے۔آپ صوفی تھے مگر زندہ دل۔چنانچہ اپنی گفتگو میں بعض اوقات اس طرح عام نہ مزاح سے کام لیتے کہ اس سے دلوں میں شگفتگی پیدا ہو جاتی۔ایک دفعہ فرمایا کہ الفضل ، نہیں بعض ایسے مضامین بھی ہونے چاہئیں۔جو سادہ طرز اور حکایات کے رنگ میں ہوں جس سے بچے بھی فائدہ اُٹھا سکیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ قوت دی تھی کہ میں مضمون پر قلم اٹھاتے اس کو نہایت خوبی سے نبھاتے۔خدا تعالیٰ نے اب انہیں اپنے پاس بلا لیا ہے لیکن ہمارے دل ان کی جدائی سے سخت حزیں اور افسردہ ہیں۔اللہ تعالیٰ جنت میں ان کو مدارج عالیہ عطا فرمائے۔اور ان کے اعزہ و اقارب اور احباب کے دلوں پر مرہم لگائے اللہ ہم آمین جناب مکرم ماسٹر فقیر اللہ صاحب میر صاحب مرحوم۔ایک قابل سرمن - ایک حاذق طبیب، عالم با عمل اور تعقی بزرگ تھے۔شروع سے آپ کی طبیعت تنہائی پسند واقع ہوئی تھی۔طالب علمی کے زمانہ میں جب آپ کا لج کی رخصتوں پر لاہور سے قادیان تشریف لائے تو سارا دن اندر گھر میں ہی رہتے۔صرف نمازوں کے لئے بہت مبارک میں تشریف لاتے۔اور نماز سے فارغ ہو کر پھر اندر چلے جاتے۔اپنی ملازمت کے زمانہ میں جہاں کہیں آپ گئے۔اپنی خداداد قابلیت اور مریضوں کے ساتھ ہمدردی کی وجہ سے نہایت ہر دلعزیز ہو گئے۔ریٹائر ہو کہ جب آپ قادیان تشریف لاتے تو ان دنوں میری رہائش لاہور تھی۔اس لئے میر صاحب سے ملنے کا بہت کم اتفاق ہوا۔اللہ کے شروع میں ہی جب میں حضرت خلیفہ اسیح