مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 114 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 114

۱۱۳ حضرت مولوی محمد نذیر صاحب لائلپوری پرو فیسر جامعه حمد قادیان حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی وفات ایک قومی صدمہ ہے۔آپ ایک بلند پایہ صوفی اور تعلق باللہ عالم دین تھے مضمون نگاری میں انہیں ایک خاص اور جدید طرز کا ملکہ حاصل تھا۔آپ ایک سادہ زندگی بسر کرنے والے اور بے تکلف انسان تھے بعض امراء کو غرباء کے پاس بیٹھنا دو بھر رہا ہے لیکن آپ ایسے اخلاق فاضلہ سے متصف تھے کہ غریبوں میں بیٹھنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔اور اس وجہ سے فریاد آپ سے بے تکلفی کے ساتھ ملنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔جن دنوں آپ لائل پور کے سرکاری ہسپتال میں تشریف لائے۔ان دنوں میں لائل پور رہتا تھا۔آپ نے اپنے حسن نکن اور ہمدردی سے جماعت کے لوگوں میں اپنی گہری حبت پیدا کرنی مجھ سے کہنے لگے کہ فریاد کو اچھا علاج میسر نہیں ہے۔اگر کسی غریب احمدی یا غیر احمدی مریض کو علاج کی ضرورت ہو تو آپ مجھے بلا تکلف کہہ دیا کریں ہیں بلائیں اس کے گھر حاکمہ اس کا علاج کیا کروں گا۔آپ ہمدردی اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے لائلپور میں مریضوں کا مرتع بن گئے۔میں نے ان کو ہسپتال میں دیکھا کہ دن رات اپنی ڈیوٹی نہایت محنت تندہی اور مستعدی سے ادا کرتے تھے۔اور خلق خدا کی ہمدردی کا جذیہ آپ کے دل میں بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ اتوار کے دن بھی چھٹی نہ کرتے بلکہ سارا دن مریضوں کی آنکھوں کے آپریشن میں مصروف رہتے تھے۔آنکھوں کی جراحی کے فن میں چونکہ آپ خوب ماہر تھے۔اس لئے اس علاقہ کے صدہا آنکھوں کے مریضوں نے آپ سے فائدہ اٹھایا۔آپ کی دیانت داری اور تقوی کا یہ اثر تھا کہ ہسپتال کا عملہ جو آپ کے ماتحت تھا۔آپ کے زمانہ میں کسی مریض سے رشوت لینے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔حضرت میر صاحب ایک خوش بیاین عالم تھے۔فارغ اوقات میں جب احمدی