حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 10 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 10

20 19 3۔”اور ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی کہ اپنے والدین سے احسان کرے۔اسے اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اُٹھائے رکھا اور تکلیف ہی کے ساتھ اُسے جنم دیا۔اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کا زمانہ تمہیں مہینے ہے۔یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجالاؤں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری ذریت کی بھی اصلاح کر دے۔یقیناً میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلاشبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔“ (الاحقاف: 16) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1 - حضرت ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو مقام جعرانہ میں دیکھا۔آپ ﷺ گوشت تقسیم فرما رہے تھے اس دوران ایک عورت آئی تو حضور نے اس کے لئے اپنی چادر بچھا دی اور وہ عورت اس پر بیٹھ گئی۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہے جس کی حضور اس قدر عزت افزائی فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضور کی رضاعی والدہ ہیں۔“ (ابو داؤد کتاب الادب، باب بر الوالدین ،حدیقۃ الصالحين ص 420) 2- ایک بار حضور تشریف فرما تھے کہ آپ کے رضاعی والد آئے حضور نے اُن کے لئے چادر کا ایک گوشہ بچھا دیا پھر رضاعی ماں آئیں تو آپ نے دوسرا گوشہ بچھا دیا پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ اُٹھ کھڑے ہوئے اور اُن کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔(ابو داؤد کتاب الادب باب تبر الوالدین) 3۔حضرت ابو بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں بہت بڑے کبیرہ گناہ نہ بتاؤں ہم عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! کیوں نہیں۔فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اس وقت آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ اُٹھ بیٹھے اور فرمایا خبر دار اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی نیز جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی چنانچہ آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے دل میں کہا کہ آپ شائد خاموش نہیں ہوں گے۔( صحیح بخاری کتاب الادب باب 562 حدیث 916 صفحہ 338) 4۔حضرت عبداللہ بن عمرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ کیا میں جہاد کروں ؟ فرمایا کہ ” کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ عرض کی ہاں فرمایا تو ” ان کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔“ ( صحیح بخاری کتاب الادب باب 559 حدیث 912 صفحہ 336) 5۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑے کبیرہ گناہوں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے دریافت کیا گیا کہ کو ئی اپنے والدین پر کسی طرح لعنت کر سکتا ہے؟ فرمایا کہ آدمی دوسرے کے والد کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے ماں باپ کو گالی ( صحیح بخاری کتاب الادب باب 560 حدیث 913 صفحہ 336) دیتا ہے۔حسنِ سلوک کا ایک واقعہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھجور کے کئی درخت تھے ایک دفعہ کھجور کے درختوں کی قیمت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی انہی ایام میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کا تنا کھوکھلا کر کے اس کا مغز نکالا اور اپنی والدہ کو کھلایا