حُسنِ اخلاق — Page 61
122 121 ( صحیح بخاری کتاب الادب باب 592 صفحہ 380-381 حدیث 964) نہ حُسنِ خُلق ہے تجھ میں نہ حسن سیرت ہے تو ہی بتا نقش و نگار کیسے ہیں نہیں مصیبتوں میں تعاون نہیں تو کچھ بھی جو غم شریک نہیں غمگسار کیسے ہیں کلام محمود واقعہ نمبر 1 کھجور کے 300 پودے حضرت سلمان فارسی نے جب اسلام قبول کیا اس وقت وہ مدینہ کے ایک یہودی کے غلام تھے اور اس نے حضرت سلمان فارسی کی آزادی کی قیمت یہ مقرر کی کہ وہ کھجور کے تین سو پودے لگا ئیں۔تلائی گوڈی کر کے پانی دے کر انہیں تیار کریں اور مالک کے حوالے کر دیں نیز چالیس اوقیہ (ایک پیمانہ ) چاندی ادا کریں صلى الله حضرت سلمان نے جب آنحضور ﷺ کو یہ اطلاع دی تو حضور نے صحابہ سے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو چنانچہ صحابہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کھجور کے پودے لے آئے کوئی تمہیں کوئی ہمیں کوئی دس یہاں تک کہ تین سو پودے جمع ہو گئے۔پھر حضور نے ان کے لئے گڑھے کھودنے کا حکم دیا چنانچہ صحابہ نے اپنے بھائی کی پوری پوری مدد کی اور تمام گڑھے اجتماعی وقار عمل سے کھو دے جب حضور کو اطلاع کی گئی تو حضور نے تمام پودے اپنے ہاتھوں سے گڑھوں میں لگائے۔صحابہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایک پودے کو حضور کے قریب لاتے اور آپ اپنے دست مبارک سے گڑھے میں رکھ دیتے۔حضرت سلمان کہتے ہیں خدا کی قسم ان پودوں میں سے ایک بھی نہیں مرا اور سارے کے سارے پھولنے لگے اسی طرح اس یہودی کی شرط پوری ہو گئی اسی طرح کسی نے حضور گوسونا پیش کیا جو حضور نے حضرت سلمان کو دے دیا اور انہوں نے آزادی حاصل کر لی۔(سیرۃ ابن ہشام جلد 1 ص 234 مطبع مصطفی البابی الحلبی 1936 ) واقعہ نمبر 2 - تعمیر مسجد قبا مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک بستی تھی جس کا نام قبا تھا رسول کریم کی ہجرت سے قبل کئی مہاجرین مکہ سے آکر اس بستی میں ٹھہر گئے تھے حضور نے خود ہجرت فرمائی تو مدینہ جانے سے قبل اسی بستی میں قیام فرمایا۔یہاں آپ نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ ایک مسجد کی بنیاد ڈالی جسے مسجد قبا کہتے ہیں مسجد کی تعمیر میں آپ نے خود صحابہ کے ساتھ مزدوروں کی طرح حصہ لیا روایت ہے کہ حضور نے صحابہ سے فرمایا قریب کی پتھریلی زمین سے پتھر جمع کر کے لاؤ۔پتھر جمع ہو گئے تو حضور نے خود قبلہ رُخ ایک خط کھینچا اور خود اس پر پہلا پتھر رکھا پھر بعض صحابہؓ سے فرمایا اس کے ساتھ ایک پتھر رکھو پھر عام اعلان فرمایا کہ ہر شخص ایک ایک پتھر رکھے۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضور خود بھاری پتھر اٹھا کر لائے یہاں تک کہ جسم مبارک جھک جاتا پیٹ پر مٹی نظر آتی صحابہ عرض کرتے۔ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ یہ پتھر چھوڑ دیں ہم اُٹھا لیں گے مگر آپ فرماتے نہیں تم ایسا ہی اور پتھر اُٹھا لاؤ۔أمعجم الكبير الطبر انى جلد 24 ص 318 مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ) حضرت عبد اللہ بن رواحہ اس موقعہ پر جوش دلانے والے اشعار پڑھتے تھے اور آنحضور قافیہ کے ساتھ آواز ملاتے تھے۔