حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 53 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 53

106 105 واقعہ نمبر 1 ایک دفعہ آپ ﷺ کو اپنے لئے لباس کی حاجت تھی کہیں سے دس درہم آئے ایک سوالی نے تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا مانگا آپ نے چار درہم کی چادر لے کر اسے دی اور چار درہم کی اپنے لئے چادر لی دو درہم لے کر نکلے کہ کہاں ان کا بہتر مصرف ہو کہ راستہ میں ایک بچی روتی دیکھی آپ نے اس کا حال پوچھا اس نے کہا کہ میں فلاں گھرانے کی لونڈی ہوں انہوں نے مجھے دو درہم دے کر آٹا خرید نے بھیجا تھا وہ گم ہو گئے ہیں اس لئے پریشان ہوں۔آپ نے دو درہم اُسے دے دیئے مگر وہ پھر بھی بیٹھی رو رہی تھی فرمایا اب کیا مشکل ہے بولی گھر سے آئی اتنی دیر ہو چکی ہے کہ اب گھر والے دیر کی وجہ سے ناراض ہوں گے۔فرمایا چلو میں ساتھ چلتا ہوں جب آپ اس لونڈی کے سفارشی بن کر اس مسلمان گھرانے میں پہنچے تو ان کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا کہنے لگے یا رسول اللہ ؟ اس لونڈی پر تو ناراض ہونے کا سوال کیا ہم آپ مہ کے اعزاز میں اسے آج سے آزاد کرتے ہیں رسول اللہ اس گھر سے نکلے تو خوش ہو کر فرمارہے تھے دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے دس درہموں میں کتنی برکت ڈال دی دو آدمیوں کو تن ڈھانپنے کو کپڑا میسر آ گیا اور ایک لونڈی بھی آزاد ہو گئی۔واقعہ نمبر 2 ( منقول از روزنامه الفضل 2 اپریل 2001) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک آدمی بے آب و گیاہ جنگل میں جا رہا تھا بادل گھرے ہوئے تھے اس نے بادل میں سے آواز سنی کہ اے بادل فلاں نیک انسان کے باغ کو سیراب کر وہ بادل اس طرف کو ہٹ گیا پتھر یلی سطح مرتفع پر بارش برسی۔پانی ایک چھوٹے سے نالے میں بہنے لگا وہ شخص بھی اس نالے کے کنارے کنارے چل پڑا کیا دیکھتا ہے کہ یہ نالہ ایک باغ میں جا داخل ہوا اور باغ کا مالک کدال سے پانی ادھر اُدھر مختلف کیاریوں میں لگا رہا ہے اوراس آدمی نے باغ کے مالک سے پوچھا اے اللہ کے بندے تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس مسافر نے اس بادل میں سے سنا تھا۔پھر باغ کے مالک نے اس مسافر سے پوچھا اے اللہ کے بندے تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھتے ہو؟ اس نے کہا میں اس بادل میں سے جس کی بارش کا تم پانی لگا رہے ہو یہ آواز سنی تھی کہ اے بادل فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کر تم سے ایسا کون سا ایسا عمل کیا ہے جس کا یہ بدلہ تجھ کو ملا ہے باغ کے مالک نے کہا اگر آپ پوچھتے ہیں تو سنیں میرا طریق کار یہ ہے کہ اس باغ سے جو پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں۔ایک تہائی اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے رکھتا ہوں اور باقی ایک تہائی دوبارہ ان کھیتوں میں بیج کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔(مسلم كتاب الزهد باب الصدقة في المساكين) واقعہ مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق کی مسابقت فی الخیرات قادیان میں ایک نابینا حافظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے رفقاء میں سے تھے ایک روز ایک حکیم صاحب کے پاس گئے اور یہ شکایت کی کہ میرے کانوں میں شائیں شائیں کی آواز سنائی دیتی ہے اور سنائی بھی کم دیتا ہے کوئی علاج بتا ئیں۔حکیم صاحب نے بتایا کہ آپ کے کانوں میں خشکی ہے دودھ پیا کریں۔اس پر انہوں نے کہا روٹی تو مجھے حضور کے لنگر سے مل جاتی ہے دودھ کہاں سے پیوں۔اسی دوران حضرت مولوی شیر علی صاحب وہاں سے