حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 49 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 49

98 97 شخص امام عادل ہو گا۔( صحیح بخاری) 3- ایک دفعہ ایک صحابی نے اپنے بیٹے کو قیمتی تحفہ دیا اور اپنی بیوی کی خواہش صلى الله پر رسول کریم ﷺ کو گواہ بنانے کے لئے حاضر ہوا۔آپ نے اس سے پوچھا کیا سب بچوں کو ایسا ہی صبہ کیا ہے انہوں نے نفی میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا پھر ظلم کی اس بات پر میں گواہ نہیں بن سکتا۔(بخاری کتاب الهبه باب الشهادت في الهبه 2398) 4۔حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحمت نازل فرمائے گا جو خرید و فروخت اور حق طلبی کے معاملہ میں سیر چشمی کا مظاہرہ کرے۔( صحیح بخارى كتاب البيوع صفحه 777 حديث 1936) -5 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش ایک مخزومی عورت کے بارے میں بہت ہی پریشان تھے جس نے چوری کی تھی لوگ کہنے لگے کہ اس بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم سے گفتگو کون کرے بعض آدمیوں نے کہا حضرت اسامہ بن زید کے سوا ایسی جرات کون کر سکتا ہے کیونکہ وہ رسول خدا کے چہیتے ہیں پس اس بارے میں حضرت اسامہ نے رسول اللہ سے گفتگو کی آپ نے فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں سفارش کرنے آئے ہو ؟ پھر آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا بے شک تم سے پہلے لوگ اسی لئے ہلاک ہوئے تھے کہ جب کوئی مالدار چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور جب غریب آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔( صحیح بخاری جلد دوم صفحه 335 کتاب الانبیاء حدیث نمبر 692) 6- حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم صلى الله جب مجھے یمن میں حاکم بنا کر بھیجنے لگے تو فرمایا۔” تم کس طرح فیصلہ کرو گے؟“ میں نے عرض کیا حضور قرآن کریم کے احکامات کے مطابق فیصلہ کروں گا اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر ایسا معاملہ آ جائے جس کے بارے میں قرآن میں کوئی واضح حکم موجود نہ ہو تو پھر کس طرح کرو گے؟ میں نے عرض کی حضور ﷺ کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا حضور فرمانے لگے اگر میری سنت میں بھی کوئی ایسی مثال نہ ملے تو پھر کس طرح کرو گے؟ میں نے عرض کیا حضور ” پھر میں اجتہاد اور غور وفکر کروں گا اور پھر جو رائے بنے اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔اس پر حضور نے خوش ہو کر فرمایا تمام تعریفوں کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے رسول اللہ کے ایلچی کو ایسی فراست اور صحیح سوچ دی۔واقعہ نمبر 1 ( ترمذی ابواب الا حکام باب فی القاضي كيف يقضى) ( حديقة الصالحین حدیث 636 صفحہ 604) ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے تقاضا کرنے آیا تو اس نے سختی کی آپ کے اصحاب نے اُسے پیٹنا چاہا تو رسول اللہ نے منع فرمایا اسے جانے دو کیونکہ قرض خواہ کو کہنے کا حق ہوتا ہے۔پھر فرمایا اسے اتنے ہی سالوں کا اُونٹ دے دو لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ اس سے زیادہ عمر کا ہے فرمایا۔وہی دے دو کیونکہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اچھی طرح ادا کرے۔صحیح بخاری جلد اول کتاب الوکاله صفحه 840 حدیث 2146) واقعہ نمبر 2 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران میں نبی کریم کے ساتھ تھا اور میں سُست رفتار اونٹ پر سوار تھا جو لوگوں