حُسنِ اخلاق — Page 26
52 51 انصاری حضرت ابوطلحہ نے کہا میں یا رسول اللہ۔چنانچہ اس کو ساتھ لے کر گھر آئے بی بی سے پوچھا کچھ ہے؟ بولیں صرف بچوں کا کھانا ہے بولے بچوں کو تو کسی طرح بہلاؤ جب میں مہمان کو گھر لاؤں تو چراغ بھیجا دینا اور میں اس پر یہ ظاہر کروں گا کہ ہم بھی ساتھ کھا رہے ہیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا صبح کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ رات خدا تمہارے حسن سلوک سے بہت خوش ہوا اور یہ آیت نازل فرمائی (ترجمہ) وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں گو وہ خود تنگدست ہوں۔(مسلم کتاب الاشربه باب اکرام الضيف و فضل ایثاره) واقعہ نمبر 2 حضرت عائشہ کے ایثار کا ایمان افروز واقعہ یوں ہے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم اور حضرت ابو بکر کے پہلو میں اپنی قبر مخصوص کر رکھی تھی لیکن جب حضرت عمر نے ان سے جگہ اپنے لئے چاہی تو حضرت عائشہ نے یہ تختہ جنت ان کو دے دیا اور فرمایا :- واقعہ نمبر 3 ” میں نے خود اپنے لئے اس کو محفوظ رکھا تھا لیکن آج اپنے اوپر آپ کو ترجیح دیتی ہوں۔“ سیرت عائشه از علامہ سید سلیمان ندوی صفحه 116) ایک جنگ میں حضرت عکرمہ حضرت حارث بن ہشام اور حضرت سہیل بن عمر و زخم کھا کر زمین پر گر پڑے اور اس حالت میں عکرمہ نے پانی مانگا۔پانی آیا تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت سہیل پانی کی طرف دیکھ رہے تھے بولے اُن کو پلاؤ حضرت سہیل کے پاس پانی آیا تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت حارث کی نگاہ بھی پانی کی طرف ہے بولے ان کو پلاؤ بالآخر یہ ہوا کہ کسی کے منہ میں پانی کا ایک قطرہ نہ گیا اور سب نے تشنہ کامی کی حالت میں جان دے دی۔اسوۂ صحابہ اوّل صفحه 194 از مولانا عبدالسلام ندوی) ایثار دراصل فیاضی کا سب سے بڑا اور سب سے آخری درجہ ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی ذاتی ضرورت پر مقدم رکھا جائے۔خود بھوکا رہے اور دوسروں کو کھلائے خود تکلیف اُٹھائے اور دوسروں کو آرام پہنچائے۔مکہ کے مہاجر جب بے خانماں ہو کر اپنا سب کچھ مکہ میں چھوڑ کر مدینہ آئے تو انصار نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا ان کو اپنے گھر دیے باغ دیے، کھیت دیے اپنی محنتوں میں ان کو شریک کیا اور خود ہر طرح کی تکلیفیں اٹھا کر ان کو آرام پہنچایا۔پھر بنو نظیر کی زمین مسلمانوں کے ہاتھ آئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ سلّم نے دو انصاریوں کے سوا باقی ساری زمین مہاجرین کو دے دی تو انصار نے ہنسی خوشی اس فیصلہ کو تسلیم کر لیا۔اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا پسند آئی اور ان کی مدح و ستائش کی۔فرمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام انسان چونکہ ناقص اور ثواب حاصل کرنے کے لئے اعمالِ صالحہ کا محتاج ہے اس لئے کبھی وہ تواضع اور تذلل کے طور پر اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے اپنے آرام پر دوسرے کا آرام مقدم کر لیتا ہے اور آپ ایک حظ سے بے نصیب رہ کر دوسرے کو وہ حظ پہنچاتا ہے تا اس طرح پر اپنے خدا کو راضی کرے اور اس کی اس صفت کا نام عربی میں ایثار ہے۔۔۔۔یہ صفت ایثار جس میں ناداری اور لا چاری اور ضعف اور محرومی شرط ہے ایک عاجز انسان کی نیک صفت ہے کہ باوجود یکہ دوسرے کو آرام پہنچا کر اپنے آرام کا سامان اس کے پاس نہیں رہتا پھر بھی وہ اپنے پر سختی کر کے دوسرے کو آرام پہنچا دیتا ہے۔“