ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 855
انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 856 طرف دھیان جانا چاہئے۔دیگر بیماریاں جو تھو جا کی یاد دلاتی ہیں ان میں سب سے نمایاں دمہ کی تکلیف ہے۔اسی طرح جلد پر مسوں یا موہکوں کا پایا جانا بھی اس کا تقاضا کرتا ہے۔غدہ قدامیہ کی تکلیف کے ساتھ اگر تھو جا کی دیگر علامتیں خصوصاً پیشاب کی نالی میں جلن کی علامت پائی جائے اور پیشاب کی بار بار حاجت ہو تو تھو جا کی خاص نشانی یہ ہے کہ پیشاب کی ایک دھار کی بجائے الگ الگ دو دھاریں نکلتی ہیں جو ذرا زور لگانے کے بعد پھر ایک بن جاتی ہیں۔غدہ قدامیہ کی دوسری بڑی دوا سلیشیا (Silicea) ہے جو CM طاقت میں سب طاقتوں سے اچھا اثر دکھاتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ مریض ٹھنڈا ہو اور ہاتھ پاؤں میں سردی زیادہ محسوس کرے۔یہ دوا مثانے کے کینسر اور غدہ قدامیہ کے کینسر دونوں پر یکساں اثر کرتی ہے اگر ہفتہ دس دن کے وقفہ سے دو تین خوراکیں دی جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمایاں فرق محسوس ہوگا۔اس بیماری میں ایک نمایاں اثر رکھنے والی دوا کلیمٹس (Clematis) ہے۔کلیمٹس جسم کے دائیں حصہ پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا حملہ زیادہ تر عضو کے دائیں حصے، دائیں فوطے اور دائیں طرف کی پیشاب کی نالی پر ہوتا ہے جو گردے سے مثانے تک جاتی ہے۔مریض ہر وقت اس میں کچھ بے چینی محسوس کرتا ہے اور پیشاب کی حاجت اسے بار بار جگاتی ہے۔عموماً نہ بجھنے والی پیاس پائی جاتی ہے جسے ٹھنڈے پانی سے کچھ سکون ملتا ہے۔کلیمٹس ایسے مریض کو وقتی فائدہ تو دیتی ہے مگر ضروری نہیں کہ مکمل شفاء کا باعث بنے۔کلیمٹس پیشاب کے وقفوں کو طویل کر دیتی ہے اور بار بار حاجت کی بجائے بعض دفعہ دو گھنٹے تک حاجت نہیں ہوتی لیکن جب ہوتی ہے تو مریض کو بہت تیزی سے بیت الخلا جانے پر مجبور کرتی ہے۔اس کے استعمال کے ساتھ ساتھ لازم ہے کہ دوسری دواؤں کی تلاش کی جائے جو مرض کو جڑ سے اکھیڑ سکیں۔بعض مریضوں میں یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ کلیمٹس کے استعمال کے بعد کھلا پیشاب آنے لگ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بار بار کی حاجت باقی رہتی ہے۔اس کا