ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 854
انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 855 تھوجا Thuja ٹریولس ٹیرسٹرس Tribulus Terrestris ٹرنیرا اگیر یکس Turnera Agaricus کلکیر یا فاس کار بو نیم سلف Carboneum Sulph کا کولس سبائنا یو ہم بینم Sabina Yohimbinum نیٹرم میور Zincum Calcarea Phos Cocculus Natrum Mur 20۔پراسٹیٹ گلینڈ ز یعنی غدہ قدامیہ جب پراسٹیٹ گلینڈز (Prostate Glands) جسے اردو میں غدہ قدامیہ کہا جاتا ہے بڑھنا شروع ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں پیشاب کی خرابی کی بعض قطعی علامتیں ملتی ہیں اور بسا اوقات اس کے علاوہ جنسی کمزوریاں بھی نمایاں ہو جاتی ہیں۔مریض محسوس کرتا ہے کہ اس کا پیشاب کھل کر نہیں آرہا بلکہ کچھ دیر کے بعد اس حالت میں رک جاتا ہے کہ تشفی نہیں ہوتی اور محسوس ہوتا ہے کہ پیچھے اور پیشاب موجود ہے۔فارغ ہونے کے تھوڑی دیر بعد پھر حاجت محسوس ہوتی ہے جس کا درمیانی عرصہ رفتہ رفتہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔بعض مریض جن کی تکلیف زیادہ بڑھ جائے ان کو بعض دفعہ نصف نصف گھنٹے بعد یا اس سے بھی کم عرصہ میں پیشاب کے لئے جانا پڑتا ہے مگر پیشاب تھوڑا آتا ہے اور حاجت رفع نہیں ہوتی۔پیشاب کے بار بار آنے کی حاجت ضروری نہیں کہ غدہ قدامیہ کے بڑھنے سے ہی ہولیکن اگر اس وجہ سے ہو تو غدہ قدامیہ کے علاج کے لئے حسب ذیل طریق اختیار کرنا چاہئے۔دبے ہوئے سوزاک کا خطرہ ہو تو تھو جا (Thuja) سے علاج شروع کریں اور رفتہ رفتہ اس کی طاقت بڑھا کر ایک لاکھ تک پہنچا دیں۔تھو جاغدہ قدامیہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور پیشاب کی نالی کی جلن میں بھی نمایاں کام کرتی ہے اس لئے سب سے پہلے اسی کی