ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 767 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 767

سپونجیا ٹو سٹا 767 سپونجیا گرم مزاج دوا ہے۔مریض کو گرمی زیادہ لگتی ہے۔کھلی ہوا کو پسند کرتا ہے۔گرم کمرے میں تکلیف بڑھتی ہے۔چھونے اور دبانے سے علامات بڑھ جاتی ہیں۔حرکت کرنے ، چلنے اور جھکنے سے بھی تکلیفوں میں اضافہ ہوتا ہے۔سردی کے موسم میں تکلیفوں میں کمی ہوتی ہے لیکن ٹھنڈی ہوا سے کھانسی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سپونجیا گلہڑ یعنی تھائی رائیڈ گلینڈ کے بڑھنے میں مفید دوا ہے۔اس کی گلٹیاں پتھر کی طرح سخت نہیں ہوتیں بلکہ اسفنج کی طرح نرم نرم اور انگلی کے دباؤ سے دبنے والی ہوتی ہیں۔سپونجیا میں رحم کے غدود بھی بڑھ جاتے ہیں۔وہ بھی اسفنج کی طرح پھلپھلے ہوتے ہیں۔جن بچوں کے غدود پھیل جائیں اور جسم لٹکا ہوا ڈھیلا ڈھالا ہوان کے لئے بھی سپونجیا مفید ثابت ہو سکتی ہے۔بعض لوگوں کی ٹھوڑی دہری ہو جاتی ہے اور نرم نرم گوشت لٹکنے لگتا ہے۔سپونجیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس کے لئے مفید ہے۔سپونجیا کی ایک دلچسپ علامت یہ ہے کہ میٹھا کھانے سے گلا خراب ہو جاتا ہے۔30 کی طاقت میں سپونجی فائدہ دیتی ہے۔اس دوران میٹھی چیزوں سے پر ہیز کریں۔چند دنوں کے بعد میٹھا کھا کر دیکھنا چاہئے کہ فرق پڑا ہے یا نہیں۔اگر فرق نہ پڑے تو پھر 200 طاقت استعمال کرنی چاہئے۔سپونجیا میں مریض رات کو بہت بے چین رہتا ہے، پرسکون نیند نہیں آتی، سوتے ہوئے جھٹکے لگتے ہیں، نیند میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں اور دن کو بھی پرسکون نیند نہیں آتی۔سپونجیادل افق سپونجیا دل کی جھلیوں کی سوزش اور دل میں الیکشن کے لئے بہت مفید ہے۔سپونجیا کا مریض معمولی سی جسمانی محنت سے تھک جاتا ہے۔سر کی طرف دوران خون ہوتا ہے اور سر درد شدید ہوتا ہے اور آنکھوں سے لیس دار رطوبت نکلتی ہے۔خشک نزلہ جس میں ناک بند رہتا ہے، منہ میں آبلے بنتے ہیں، حلق میں چھن اور خشکی ، دکھن اور درد کا احساس ہوتا ہے اور گلے میں سرسراہٹ کے ساتھ کھانسی اٹھتی ہے۔سپونجیا میں شدید بھوک اور پیاس کی علامت پائی جاتی ہے۔منہ کا ذائقہ کڑوا رہتا