ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 766
سپونجیا ٹوسٹا 766 ہواس میں سپونجیا ضرور اچھا اثر دکھاتی ہے۔ایسی کھانسی میں جو سپونجیا کی محتاج ہو، اس میں دوسری دوا میں کام نہیں کریں گی اس میں سپونجیا ہی دینی پڑے گی۔دل کی کمزوری سے تعلق رکھنے والے دمہ میں خوف بھی پایا جائے، سانس اکھڑے اکھڑے چلتے ہوں ، دل کے مقام پر کچا پن محسوس ہو اور دمہ کی دوسری دوائیں کام نہ کر رہی ہوں تو سپونجیا کو پیش نظر رکھنا چاہئے ایسے مشکل وقتوں میں یہ بڑی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔سپونجیا کوا یکونائٹ سے بھی مشابہت ہے۔ایکونائٹ میں بہت خوف ہوتا ہے۔سپونجیا میں بھی بہت خوف ملتا ہے۔دل کے دموی مریض کا خوف بسا اوقات سپونجیا کی نشاندہی کرتا ہے۔رات کو آنکھ کھلے تو سپونجیا کے مریض کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ خود کہاں ہے۔دروازہ اور کھڑ کی کہاں ہے۔یہ کیفیت روزمرہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے بھی ہو جاتی ہے جو مرض کی نشاندہی کرتی ہے اور یہ دماغی انتشار سپونجیا میں نمایاں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بعض اور دواؤں میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے۔جہاں تک گھبراہٹ اور جھٹکے سے آنکھ کھلنے کا تعلق ہے وہ گرائینڈ لیا اور آرسنک میں بھی بہت نمایاں ہے لیکن یہ احساس کہ نہ معلوم میں کہاں ہوں، سپونجیا کے علاوہ فاسفورس لیکیسس ، کار بوویچ ، گلونائن، لائیکو پوڈیم اور ایسکولس میں بھی پایا جاتا ہے۔سپونجیا کا مریض رات کے کسی حصہ میں جب بھی اٹھے گا ذہنی انتشار کا شکار ہوگا۔اگر دل آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ نے لگے یا اپنے اصل سائز سے بڑا ہو جائے تو سپونجیا اس میں بھی مفید ہے۔دل پھیل جائے تو عام طور پر اپنی اصل حالت میں واپس نہیں لوٹتا۔جو ہومیو پیتھک دوائیں اس ضدی مرض میں مفید ثابت ہوتی ہیں ان میں سپونجیا بھی شامل ہے۔اس بارہ میں رسٹاکس کا خصوصیت سے مطالعہ کریں۔سپونجیا کے ساتھ دل کی عمومی طاقت کے لئے کریٹیکس ( Crataegus) بھی استعمال کرنی چاہئے۔