ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 748
سیپیا 748 بھی آتا ہے۔بچے کی پیدائش کے بعد اگر پلیسنا( Placenta) یعنی بچہ دانی کی جھلی اندرہی رہ جائے تو بہت گہری تکلیفیں پیدا ہو جاتی ہیں۔اگر اس میں پلسٹیلا کام نہ کرے تو سپیا دوا ہوسکتی ہے لیکن پلسٹیلا اور سپیا اس وقت تک مفید ہیں جب تک نظام خون کے اندر زہر داخل نہ ہو گیا ہو۔جب خون میں زہر داخل ہو جائے تو سلفر اور پائر وچینم کا آزمودہ نسخہ بہترین ثابت ہوتا ہے۔یہ دونوں 200 کی طاقت میں ملا کر فورادینی چاہئیں۔دودھ پلانے کے زمانے میں سپیا کا مزاج رکھنے والی عورت کا حیض عموماً بند ہو جاتا ہے لیکن کلکیریا کارب کے مریض میں حیض کا خون بے محل جاری ہو جاتا ہے۔سپیا کے مریض کے خون میں تیزابی مادے پائے جاتے ہیں جن سے اعصابی درد ہوتے ہیں۔اگر درمیانے درجہ کی ورزش کی جائے تو سپیا کی تکلفیں بڑھ جاتی ہیں لیکن بہت زیادہ ورزش کرنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔سپیا میں ہاتھ پاؤں سونے کی علامت بھی ملتی ہے۔ملیریا بخار جس میں وقت کا تعین نہ ہو، اس میں سپیا ایک ترتیب پیدا کر دیتی ہے جس سے اصل دوا کی پہچان ممکن ہو جاتی ہے۔اگر سپیا کا مریض ہو تو سیپیا خود ہی شفا کا موجب بن جاتی ہے۔عضلاتی کمزوری کی وجہ سے نظر کمزور ہو جاتی ہے۔آنکھوں کے سامنے سیاہ دھبے تھر کہتے ہیں۔کمزوری اور رحم کی خرابیوں کے نتیجہ میں آنکھوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔پپوٹے بوجھل ہو کر نیچے لٹک جاتے ہیں۔کانوں کے پیچھے اور گردن کے قریب ابھار بن جاتے ہیں۔بعض مریضوں میں چہرے پر زرد داغ پڑ جاتے ہیں۔زبان سفید اور منہ کا ذائقہ بہت نمکین ہوتا ہے۔مریض ترش چیزیں پسند کرتا ہے۔نقاہت اور کمزوری کا احساس بہت ہوتا ہے۔کھانے کی بو سے متلی ہوتی ہے جو کروٹ کے بل لیٹنے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔مددگار دوا: نیٹرم میور نکس وامیکا۔فاسفورس 30 اور اونچی طاقتیں اور طاقت سپیا کی ذہنی مریضاؤں کے لئے ان کا مزاج درست کرنے کیلئے ایک لاکھ طاقت میں دینی چاہئے۔