ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 739 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 739

سکیں 739 کمزوری کے باوجود پاگل پن کے جوش میں مارنے کے لئے دوڑتا ہے۔ایسی حالت میں اسے سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔سیکیل میں اسہال سیاہی مائل اور متعفن ہوتے ہیں۔مریض کو اکثر پتہ ہی نہیں چلتا اور بلا ارادہ ہی اسہال جاری ہو جاتے ہیں۔مریض کا جسم سخت ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور بے حد کمزوری محسوس ہوتی ہے مگر پھر بھی اسے گرمی لگتی ہے اور وہ کپڑا اوڑھنا پسند نہیں کرتا۔ایشیائی ہیضہ (Asiatic Cholera) میں بھی سیکیل مفید ہے۔اس میں کیمفر کی طرح جسم بالکل ٹھنڈا ہو جاتا ہے لیکن اندرونی طور پر مریض کو گرمی کا احساس نہیں ہوتا۔سیکیل میں ٹانگوں اور بعض مقامی حصوں یا کسی ایک طرف کا فالج بھی پایا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی معین سمت نہیں ہے۔دائیں طرف بھی ہو سکتا ہے اور بائیں طرف بھی۔مگر اس فالج کی تشخیص پر وقت ضائع کرنے کی بجائے سیکیل کی مزاجی علامات پر ہی انحصار کرنا چاہئے۔سیکیل میں اس بات کو ضرور یاد رکھیں کہ جہاں بھی مرض نمودار ہوگا وہاں سن ہونے اور جلن کا احساس ضرور پایا جائے گا اور رات کے وقت تشیخ اور اینٹھن میں ہمیشہ اضافہ ہو گا۔اس کا مریض کھلی ہوا میں آرام محسوس کرتا ہے، گرمی ،نمکور اور حیض کے ایام سے قبل تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ہیں۔کیمفر اور او پیم سے سیکیل کا اثر زائل ہو جاتا ہے یعنی یہ دونوں دوا میں سیکیل کا تریاق مددگار دوائیں چائنا، آرسنک، ایکونائٹ، بیلاڈونا، پلسٹیلا دافع اثر دوائیں: کیمفر ، او پیم طاقت: 30