ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 738
738 سے تڑپ تڑپ کر جان دے دے گی۔وضع حمل کے بعد در داور تکلیف جاری رہے، نفاس کے خون میں زیادتی کی وجہ سے رحم میں درد ہو اور خون سیاہی مائل گندے رنگ کا ہو تو سیکیل باعث شفا بن جاتی ہے۔حمل کے دوران چھاتیاں سکڑ جائیں اور دودھ نہ بنے اور ماں بچے کو دودھ نہ پلا سکے تو سیکیل دینے سے افاقہ ہوتا ہے۔سیکیل کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کے پیشاب میں بھی سیاہ رنگ نمایاں ہوتا ہے۔یہ سیاہی Terebinthina سے مشابہ ہے۔جس میں پیشاب کی سیاہی خاص طور پر پائی جاتی ہے اور اس سیاہی کی وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ پیشاب میں پروٹین آنے لگتی ہے۔گردوں کی جھلیوں پر اثر ہوتا ہے۔اس کے لئے Terebinthina بہت مؤثر دوا سجھی جاتی ہے۔سیکیل کے مریض میں پیشاب کا سیاہی مائل ہونا البیومن کی وجہ سے نہیں بلکہ گندے خون کے ذرات شامل ہونے کے باعث ہوتا ہے۔سیکیل کے مریض کے نمونیہ میں بھی پھیپھڑوں میں گینگرین بننے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے ایسے نمونیہ کا علاج سیکیل سے ہی ہونا چاہئے۔سیکیل وقت پر دی جائے تو بہت طاقتور دوا ثابت ہوتی ہے اور فوری اثر دکھاتی ہے۔ہر جگہ جہاں زخموں میں سوزش ہو، گلنے سڑنے اور گینگرین بنے کا رجحان پایا جائے خواہ یہ علامتیں معدہ میں ظاہر ہوں یا پھیپھڑوں میں یا پھر اندرونی جھلیوں میں سیکیل ان سب عوارض میں ایک لازمی دوا ثابت ہوتی ہے۔سیکیل میں شیخ اور اینٹھن بھی پائے جاتے ہیں۔خصوصاً کسی ایک عضو میں مثلاً تلووں، پنڈلیوں یا بازوؤں کے کسی حصہ میں تشیخ شروع ہو جاتا ہے۔اگر سیکیل کی دوسری علامتیں بھی ملتی ہوں تو پھر یہ فوری فائدہ دیتی ہے۔اعصابی دردوں میں بھی بہت مفید دوا ہے۔یہ درد اعصاب کے ریشوں کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہیں جیسے بجلی کوند گئی ہو اور بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔سیکیل کے اعصابی دردوں کو کپڑا اوڑھنے سے آرام ملتا ہے۔سیکیل میں پاگل پن کی علامت بھی ملتی ہے۔مریض ہذیان بکتا ہے، متشدد ہوتا ہے،