ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 716

ریومکس کرسپس 716 اس میں ریو کس کی علامتیں پائی جائیں تو وہاں یہ علامت ظاہر نہیں ہوگی۔اس طریق پر دواؤں کی نشان دہی ہو سکتی ہے۔انہیں کلاسیکل طب کے حوالے سے سمجھنا چاہئے ورنہ بعض تضادات دکھائی دیں گے۔ریومکس معدہ کی تکلیفوں میں بھی مفید ہے۔معدہ میں بہت ہوا بنتی ہے اور گڑ گڑاہٹ کی آواز آتی ہے۔عموما نزلے کے بعد شدید دست شروع ہو جاتے ہیں ریو کس میں دست بغیر درد کے اور مقدار میں بہت زیادہ ہوتے ہیں جو پانی کی طرح پتلے اور سیاہی مائل ہوتے ہیں جو مریض کو صبح صبح بستر سے اچانک اٹھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کھانے کے بعد معدے میں بوجھ محسوس ہوتا ہے جو حلق تک جاتا ہے۔کھانا کھانے کے بعد چھاتی کے بائیں طرف درد ہوتا ہے، مریض گوشت نہیں کھا سکتا۔پیٹ میں درد ہوتا ہے جو حرکت سے یا بولنے سے بڑھ جاتا ہے۔ریو کس کی ایک علامت یہ ہے کہ مریض کی زبان کناروں سے چھل جاتی ہے اور زبان پر زر درنگ کی تہہ جم جاتی ہے۔جسم کے مختلف حصوں میں خارش بھی ہوتی ہے خصوصاً ٹانگوں میں چھوٹے چھوٹے دانے بن جاتے ہیں۔ٹھنڈی ہوا لگنے سے اور کپڑے بدلتے ہوئے خارش بڑھ جاتی ہے۔ریو کس کا مریض بے حدست ہوتا ہے اور بہت کمزوری محسوس کرتا ہے۔مزاج میں عمومی کمزوری کے ساتھ چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی آجاتی ہے۔سر میں ہلکا ہلکا در درہتا ہے۔درد پیشانی اور سر کی دائیں جانب ہوتا ہے۔چھینکیں آنے سے درد میں اضافہ رہتا ہے۔نیز اس کا مریض ٹھنڈی ہوا سے سخت زو حس ہوتا ہے۔ہوا کے جھونکے سے کھانسی کا دورہ شروع ہو جاتا ہے۔وہ عموماً اپنا سرمنہ ڈھانپ کر سوتا ہے۔مریض کو بہت چھینکیں آتی ہیں جن کے ساتھ ناک بہتا ہے۔شام کو اور رات کو تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ریومکس میں کھانسی عموماً گیارہ بجے شروع ہو جاتی ہے خواہ مریض جاگ رہا ہو یا سویا ہواہو۔ریوکس کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آواز بیٹھ جاتی ہے۔گلے میں سخت بلغم کے جم جانے کی وجہ سے بولنا مشکل ہو جاتا ہے۔