ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 676

676 اسے جگاتا ہے تو پھر وہ پوچھتا ہے کہ کیا بات تھی؟ یہ بالکل الگ بات ہے۔پلم کا مریض ہمیشہ ہر چیز میں یہی رد عمل دکھاتا ہے حتی کہ اسے درد کا احساس بھی کچھ دیر کے بعد ہوتا ہے۔اس لئے ایسے مریض کے لئے خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زخمی نہ کرلے کیونکہ چھنے یا کاٹنے والی چیز اپنا کام کر جائے تو اسے ذرا دیر بعد ہی پتہ چلے گا کہ کیا حادثہ گزرا ہے۔یہ پلیم کے ہر مریض میں نہیں ہوتا، صرف ان میں ہوتا ہے جو مزا جا سرتا پا پیہم کے مریض ہوں۔پلمبم کا مریض بات سمجھتا تو ہے لیکن ذہن پر اس کا نقش جمانے میں اسے کچھ وقت لگتا ہے۔جلد کے درد محسوس کرنے والے اعصاب دیر میں پیغام پہنچاتے ہیں۔بعض اوقات احساس کا آہستہ آہستہ مدہم ہونا اعصاب کے مستقل سن ہونے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔جلد بے حس ہو جاتی ہے، پاؤں اور دیگر اعضاء وغیرہ میں آہستہ آہستہ جان اور احساس کی طاقت مٹتی چلی جاتی ہے۔جب بیماری بہت بڑھ جائے تو مریض جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہوتے آخر ہڈیوں کے گرد لپٹا ہوا جلد کا ایک تھیلا سا بن جاتا ہے۔یمیم کی خاص علامت یہ ہے کہ جس عضو میں درد ہو وہ سوکھ جائے گا۔یہ علامت بعض دوسرے فالجوں میں بھی ملتی ہے۔فالجی بخار مثلاً ٹائیفائیڈ وغیرہ میں اگر کسی خاص عضو پر حملہ ہوا ہو تو وہ حصہ کمزور ہو جاتا ہے لیکن درد کی وجہ سے نہیں۔ٹائیفائیڈ بعض دفعہ ٹانگوں یا بازوؤں کو مفلوج کر دیتا ہے لیکن ساتھ درد نہیں ہوتا جبکہ پلم کا فالج جس عضو میں ہو اس عضو میں درد بھی ہوتا ہے۔جسم کے جس عضو میں بھی فالجی اثر شروع ہو وہ درد بھی ضرور کرتا ہے۔ایسی صورت میں یم کوفوراً استعمال کرنا چاہئے۔عرق النساء میں بھی یہ مفید ہے۔اگر پلم کی دیگر علامات بھی پائی جائیں تو سب سے پہلے یہی دوا استعمال کروانی چاہئے۔جہاں بھی فالج کے اثر کے تحت اعضاء لٹک جائیں، درد سے بھر جائیں اور ان میں کمزوری واقع ہو جائے تو پلمبم مؤثر ہوگا۔پیانو بجانے والوں کو اکثر انگلیوں کے جوڑوں کا فالج ہو جاتا ہے اور انگلیاں بے کار ہو کر لٹک جاتی ہیں، ان کے لئے دو دوا ئیں بہت مشہور ہیں ایک لیمیم اور دوسری کیورارے (Curare)۔مؤخر الذکر ایک خطرناک زہر ہے جس کا فالج سے خاص طور پر