ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 654
فاسفورس 654 عموماً ایسڈ فاس استعمال ہوتا ہے لیکن اگر اعصاب میں تیزی اور حدت ہو تو فاسفورس زیادہ مفید ہے۔یہ بالوں کو گرنے سے روکتا ہے اور انہیں مضبوط بناتا ہے۔پتلے اور سنہرے بال جو فاسفورس کی نشانی سمجھے جاتے ہیں وہ دراصل بالوں کی جڑوں کی کمزوری کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں۔قدرتی صحت مند سنہرے بالوں کا فاسفورس سے کوئی تعلق نہیں۔جلد کے وہ بار یک غدود جن کا بالوں سے تعلق ہے Follicles کہلاتے ہیں۔ان کی کمزوری کی وجہ سے بالوں میں ملائمت اور ریشمی پن نظر آتا ہے جو بیماری کا نشان ہے اور فاسفورس کی نشاندہی کرتا ہے۔جلدی کمزوریاں Pigmentation کی کمزوری سے پیدا ہوتی ہیں۔البینو (Albino) یعنی بالکل بے رنگ برص کی طرح سفید نظر آنے والے بچے فاسفورس کی تصویر ہیں اس لئے ان بچوں کی بیماریوں میں یہ کام آسکتا ہے۔فاسفورس کا اسی قسم کی جلد سے تعلق ہے جس میں کچا پن آ جاتا ہے اور بالوں میں کمزوری ظاہر ہوتی ہے خواہ مریض کا رنگ کیسا ہی ہو۔نیٹرم میور میں بھی بعض ایسی علامتیں ملتی ہیں۔بال کھو کھلے اور بے جان ہو جاتے ہیں اور کناروں سے پھٹ جاتے ہیں مگر جلد کی اور بے جان نہیں ہوتی۔فاسفورس میں آنکھوں کے سامنے دھند کا سا احساس ہوتا ہے۔موم بتی کی لو کے گرد سبز ہالہ فاسفورس کے علاوہ اوپیم میں بھی پایا جاتا ہے۔اوپیم کا بھی او پٹک نرو (Optic Nerve) سے تعلق ہے اور یہ اس میں فالج پیدا کرتی ہے۔فاسفورس بہت سے امراض چشم میں کام آتی ہے۔آنکھ کے پیچھے جو پردہ ہے اور جسے ریٹینا (Retina) کہتے ہیں، اس میں راڈز اور کونز (Rods and Cones) ہوتے ہیں۔کونز (Cones) جو مثلث شکل رکھتی ہیں رنگوں کو پھاڑنے کا کام دیتی ہیں اور مختلف رنگ دیکھنے کا شعور انہی سے پیدا ہوتا ہے اور راڈز (Rods) کالےاور سفید رنگ میں تمیز کرتے ہیں۔اگر ریٹینا خراب ہو جائے یا ان اعصاب میں، جو پیغام لے کر جاتے ہیں، کمزوری پیدا ہو جائے تو وہ ہر رنگ کو ریکارڈ نہیں کرتے اور رنگوں میں فرق نہیں کر سکتے۔آہستہ آہستہ بڑھنے والا اندھا پن جو بعد میں پورے اندھے پن میں تبدیل ہو جاتا