ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 648

او پیم 648 ہوتا رہتا ہے اور متلی اور قے کا رجحان بہت بڑھ جاتا ہے۔آخر بھوک بالکل ختم ہو جاتی ہے، مریض کچھ نہیں کھا سکتا اور سخت کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔اس خصوصی علامت میں کیمومیلا بھی اور پیم کے برابر کی دوا ہے اور اس میں اس قسم کی مسلسل متلی کو روکنے کی حیرت انگیز طاقت ہے۔سمندر کے سفر کے دوران متلی ہو تو بعض اوقات او پیم یا کیمومیلا یا دونوں ملا کرفوری اثر دکھاتی ہیں۔اوریم میں سر بازوؤں اور ہاتھوں میں تشبیح ہونے کا رجحان ہوتا ہے۔ہاتھ کا بنیتے ہیں اور سن ہو جاتے ہیں۔اعضاء میں تشیبی جھٹکے لگتے ہیں اور کا نچتے ہیں۔آنکھوں کی پتلیاں پھیل جاتی ہیں جن پر روشنی اثر نہیں کرتی۔اوپیم کے مریض میں سر درد سر کے پچھلے حصہ یعنی گدی سے شروع ہو کر گردن میں دونوں طرف پھیل جاتا ہے۔سارا سرسن ہو جاتا ہے اور بہت بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ذراسی حرکت حتی کہ آنکھ جھپکنے کی حرکت بھی نا قابل برداشت ہوتی ہے۔اس لئے مریض آنکھیں بند کر کے بے حس و حرکت پڑا رہتا ہے۔عضلات کے نکھاؤ، ہاتھ پاؤں کے مڑنے اور ہر قسم کے تشنجات میں جبکہ دوسری تائیدی علامات بھی موجود ہوں اور پیم مفید ہے۔گردن توڑ بخار یعنی Meningitis جس سے عموماً بچے متاثر ہوتے ہیں اور ان پر بیماری کا حملہ زیادہ شدت سے ہوتا ہے، اس میں بھی اوپیم بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔اگر بر وقت استعمال کی جائے تو بچہ بہت سی تکلیفوں سے بچ جاتا ہے۔اس مرض میں ظاہری علامات کو مد نظر رکھ کر دوا تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔طبیب کو پہلے ہی سے از بر ہونا چاہئے کہ کون کون سی دوائیں اس مرض میں فوری اور اچھا کام کرنے والی ہیں۔اگر خوف کے نتیجہ میں عضلات میں اکڑاؤ پیدا ہو۔ہاتھ پاؤں مڑنے لگیں اور ہسٹیریا یا مربی کے دورے شروع ہو جائیں تو اونچی طاقت میں اوپیم استعمال کرنا چاہئے۔اگر خوف کے نتیجہ میں مرگی کے دورے مستقل صورت اختیار کر لیں تو بعض دفعہ او پیم کی اونچی طاقت میں ایک ہی خوراک مرض کا قلع قمع کر دیتی ہے۔لیکن صرف اس صورت