ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 624

نیٹرم میور 624 ہے۔اگر آرسنک اور لیڈم کے ساتھ ملا کر استعمال کی جائے تو حیرت انگیز سرعت کے ساتھ فائدہ دیتی ہے۔علاوہ ازیں شہد کی مکھی کے زہر کا اثر فوری طور پر دور کرنے کے لئے کار بالک ایسڈ بہت شہرت رکھتی ہے۔نیٹرم میورا میپس (Apis) کا مزمن ہے۔مزمن سے مراد ہے کہ کسی ایسی دوا کے اثرات جو نسبتاً عارضی فائدہ پہنچائیں اور ختم ہو جائیں۔اگر کوئی اور دوا انہیں آگے بڑھانے میں مدد دے تو اسے پہلی دوا کا مزمن کہا جاتا ہے۔ایپس کی ورم کو ایپس سے پوری طرح فائدہ نہ ہو تو وہ نیٹرم میور دینے سے ختم ہو جاتی ہے۔اسی طرح بعض اور بیماریوں میں بھی ایپس کے بعد نیٹرم میور کارآمد ہوتی ہے اس لئے اسے ایپس کا مزمن کہا جاتا ہے۔بچہ کی پیدائش کے بعد باقی رہ جانے والی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے بھی نیٹرم میور مفید ہے۔اگر بچے کی پیدائش کے بعد عورت کی عمومی صحت خراب ہو جائے تو کالی کا رب کے علاوہ نیٹرم میور بھی مؤثر دوا ہے جو صحت کو بحال کرتی ہے۔اگر بچے کی پیدائش کے بعد کمر درد کالی کا رب سے ٹھیک نہ ہو تو نیٹرم میور بہت مؤثر ثابت ہوگی۔اگر ماں کے دودھ میں کوئی ایسی کمی پائی جائے کہ بچہ تین رنگ میں پرورش نہ پائے یا دودھ جلد سوکھ جائے تو نیٹرم میور استعمال کرنا چاہئے۔نیٹرم میور اس اندرونی زہر کو دور کرتا ہے جو بچے کی پرورش کی راہ میں حائل ہو اور بچے کی ضرورت کے مطابق دودھ بھی بڑھاتا ہے۔نیٹرم میور بچوں کے سوکھا پن کی بھی بہترین دوا ہے۔یہ سوکھا پن جسم کے اوپر سے نیچے کی طرف اترتا ہے۔یہ بیماری بعض دفعہ ماؤں کی کسی بیماری کا نتیجہ ہوتی ہے لہذا ماں کا علاج بھی ضروری ہے۔عورتوں میں حیض کے ایام بے قاعدہ ہوں ، خون مقدار میں زیادہ جاری ہو، سوزش پیدا کرنے والا لیکوریا ہو جس سے خارش بھی ہوتی ہو، حیض سے قبل طبیعت میں افسردگی اور غمگینی پیدا ہو، نیچے کی طرف بوجھ اور درد محسوس ہوتا ہو جو صبح کے وقت زیادہ ہو۔یہ سب اجتماعی علامات نیٹرم میور کے مریضوں میں ملتی ہیں۔مسوڑھے متورم