ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 623
نیٹرم میور 623 چھوڑتا ہے۔اس میں نیٹرم میور بہت مفید ہے۔بارہا تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ نیٹرم میور دینے پر بخار تیسرے دن کی بجائے دوسرے دن آنے لگتا ہے اور کم ہوتے ہوتے ہفتہ دس دن کے اندر بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔اگر نیٹرم میور کے مریضوں کی بیماریاں بہت الجھ گئی ہوں اور غلط علاج کے نتیجہ میں بہت لمبی ہوگئی ہوں تو ایسے مریضوں کی علامات صاف کرنے کے لئے سلفر 200 بہت اچھا کام کرتی ہے اور چونکہ یہ گہرا اثر رکھنے والی دوا ہے۔اس لئے ان میں سے بعض بیماریوں کو شفا بھی دیتی ہے۔نیٹرم میور بھی بگڑے ہوئے بخاروں میں مریض کی علامتوں کو خوب کھول کر اور نتھار کر سامنے لے آتا ہے۔بخار بگڑ کر کئی شکلیں اختیار کر لیتے ہیں۔ملیر یا بگڑ جائے تو علامات میں بہت پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔کہیں درد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور کہیں کوئی دوسرا روپ دھار لیتا ہے۔ایک قابل انگریز ڈاکٹر نے ملیریا کے بارے میں کہا ہے کہ یہ عمل کے سوا ہر دوسری بیماری کا بھیس بدل سکتا ہے اور سب علامتوں میں اتنا الجھاؤ پیدا کر دیتا ہے کہ ڈاکٹر بیماری کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا۔اس تعلق میں نیٹرم میور اور سپیا دونوں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ملیریا بخار کے عمومی رجحان کو دور کرنے کے لئے صحت کی حالت میں اونچی طاقت میں نیٹرم میور بعض دفعہ بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔اس طرح حفظ ما تقدم کے طور پر عموماً آرنیکا ایک ہزار یا اس سے اونچی طاقت میں اور آرسنک 1000 یا اونچی طاقت میں ساتھ ملا کر دینا اکثر مفیددیکھا گیا ہے۔نیٹرم میور میں بعض اوقات ہیپر سلف کی طرح گلے میں کچھ پھنسے ہونے کا احساس رہتا ہے۔مریض بار بار پھنسی ہوئی چیز نکالنے کی بے سود کوشش کرتا ہے۔حلق میں کانٹے چھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔اگر واقعتا گلے میں کوئی چیز پھنس جائے، مچھلی کا کانٹا ہو یا کوئی اور چیز توسلیفیا اسے باہر نکالنے کی خاصیت رکھتی ہے۔نیٹرم میور میں بعض دفعہ گا بہت خشک ہو جاتا ہے اور زخم بنے لگتے ہیں۔نیٹرم میور میں بھی پھیپھلی سی ور میں پائی جاتی ہیں جیسی شہد کی مکھی کے کاٹنے سے پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے شہد کی مکھی کاٹ لے تو نیٹرم میور بطور علاج بہت مؤثر دوا