ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 611
نیٹرم کارب 611 145 نیٹرم کار بونیکم NATRUM CARBONICUM (Carbonat of Sodium) نیٹرم کا رب سوڈیم اور کاربن کا مرکب ہے اور ان دونوں کی علامتیں اس میں پائی جاتی ہیں۔نیٹرم کا رب کے مریض کو ہلکے شور سے بھی جسم پر کپکپی ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ کاغذ کی سرسراہٹ سے بھی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔نیٹرم کا رب کا مریض ان خاص علامتوں سے پہچانا جاتا ہے۔عجیب بات ہے کہ شور خواہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہواگر ایک ہی سطح پر جاری رہے تو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر آوازوں کا زیر و بم اعصاب پر سخت برا اثر ڈالتا ہے۔شور کی اونچ نیچ نا قابل برداشت ہوتی ہے۔اچانک کوئی دھما کہ ہو یا شور پڑ جائے تو یہ نیٹرم کا رب کے مریض کے لئے بہت مضر ثابت ہوتا ہے۔ایسے مریض کو اچانک ڈرایا جائے تو دل بند ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔اس لئے اس بارہ میں محتاط رہنا چاہئے۔نیٹرم کا رب کے مریض کی بیماریاں مزمن ہو جائیں تو وہ اپنے گھر والوں سے بھی اجنبیت محسوس کرنے لگتا ہے۔اسے ہر ایک سے دوری کا احساس ہونے لگتا ہے۔صحبت اور تعلق میں کمی آجاتی ہے۔یہ کیفیت بڑھتے بڑھتے تمام بنی نوع انسان سے بیزاری اور بے تعلقی کے رنگ میں ظاہر ہونے لگتی ہے اور وہ کسی کو برداشت نہیں کرسکتا۔خوف کی بجائے بیزاری نمایاں ہوتی ہے۔نیٹرم کا رب کے مریض کے پیشاب میں گھوڑے کے پیشاب جیسی بو ہوتی ہے۔یہ علامت بینزوئیک ایسڈ (Benzoic Acid) میں بھی پائی جاتی ہے۔پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے۔رات کے وقت خود بخود نکل جاتا ہے۔پیشاب کرتے ہوئے جلن بھی