ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 608
میوریٹک ایسڈ 608 میوریٹک ایسڈ کے برعکس ہوتی ہیں۔میوریٹک ایسڈ میں جسم پہلے بگڑتا ہے۔دماغ کی سب سے آخر پر باری آتی ہے جبکہ ایسڈ فاس کے مریضوں کی دماغی علامتیں پہلے بگڑتی ہیں اور چینی کمزوری کے نتیجہ میں جسمانی بیماریاں بعد میں پیدا ہوتی ہیں۔مریض کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے، دماغی طاقت رفتہ رفتہ کم ہونے لگتی ہے اور یادداشت خراب ہو جاتی ہے۔اس قسم کی علامتیں کچھ عرصہ کے بعد آہستہ آہستہ عضلاتی کمزوریوں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ایسڈ فاس کا مریض عضلاتی مریض بننے میں بہت وقت لیتا ہے۔اگر اس دوا سے اس کی دماغی علامات کا علاج جلد کیا جائے تو عضلات پر بداثر پڑے گا ہی نہیں۔میوریٹک ایسڈ کے مریض کو سنبھالنا نسبتاً آسان ہے کیونکہ اگر دماغ موت کے قریب بھی صحیح رہے اور نفسیاتی کیفیات پر کوئی بداثر ظاہر نہ ہوا ہو تو ایک دو خوراکوں سے اسے آرام آجائے گا کیونکہ تیزابیت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا ضعف جتنا خطرناک ہوتا ہے اتنا ہی جلدی ٹھیک بھی ہو جاتا ہے اور لمبا گہرا اثر باقی نہیں چھوڑتا۔یہی حال سلفیورک ایسڈ کا ہے۔پس سب تیزابوں کے مزاج کو سمجھنا اور ان کا آپس میں موازنہ کرنا بہت ضروری ہے۔میور سیٹک ایسڈ میں سردرد بہت شدید ہوتا ہے جس سے نظر بھی دھندلا جاتی ہے اور نظر پر زیادہ دباؤ ڈالا جائے تو درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔چہرہ پر دانے نکلتے ہیں، ہونٹ خشک ہو کر پھٹ جاتے ہیں، زبان پیلی پیلی اور سوجی ہوئی اور بالکل خشک ہوتی ہے اور کئی دفعہ زبان اور منہ میں السر بھی ہو جاتے ہیں۔مسوڑھے بھی سوجے ہوئے ہوتے ہیں اور ان سے خون بھی نکلتا ہے۔دانت ہلنے لگتے ہیں۔میوریٹک ایسڈ کے بعض مریض گوشت دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے لیکن اکثر مریض شوق سے گوشت کھاتے ہیں۔بعض دفعہ شدید بھوک اور پیاس محسوس ہوتی ہے۔بعض مریضوں میں چھونے سے زود حسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ نا قابل برداشت ہو جاتی ہے حتی کہ مریض اپنے آپ کو چادر سے ڈھانپنا بھی پسند نہیں کرتا۔اس کی تکلیفیں مرطوب موسم