ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 607
607 144 میوریٹک ایسڈ میوریٹیکم ایسڈم MURIATICUM ACIDUM میور بیٹک ایسڈ یعنی ہائیڈروکلورک ایسڈ (HCI) ایک عام تیزاب ہے جو ہمارے جسم کے نظام ہضم سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔میور بیٹک ایسڈ کے بارے میں اکثر ہومیو پیتھک ڈاکٹر بہت خوفناک تصویر کھینچتے ہیں کہ ایسا مریض جس کے عضلات مکمل طور پر جواب دے چکے ہوں، سر بستر سے ڈھلک ڈھلک جائے اور موت میں صرف چند ساعتیں باقی رہ جائیں تو ایسا مریض میوریٹک ایسڈ کا مریض ہوتا ہے حالانکہ یہ معدہ میں روز مرہ پیدا ہونے والا ہائیڈروکلورک ایسڈ ہی ہے جس سے ہمیں ہر وقت واسطہ پڑتا ہے اور جسم میں اس کی مقدار میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔جب معدہ میں تیزابیت بڑھے تو اس بات کا امکان ہے کہ میور ٹک ایسڈ بڑھ گیا ہو یا اس کے بالکل برعکس صورت حال بھی ہو سکتی ہے۔معدہ میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کم ہو جائے تو اس سے بھی تیزاب کی زیادتی کی علامات پیدا ہوسکتی ہیں کیونکہ اگر گلینڈز ہائیڈروکلورک ایسڈ بنانے کی رفتار کم کر دیں تو غذا معدہ میں ہی گلنے سڑنے لگتی ہے اور ایسے فاسد تیزاب بنے لگتے ہیں جن سے پیٹ میں ہوائیں بنتی ہیں۔روزمرہ کی معمول کی تیزابیت کمزوری پیدا نہیں کرتی لیکن اگر اس کا توازن بگڑ جائے یعنی ضرورت سے کم یا زیادہ ہو جائے تو وہ تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں جنہیں ہم تیزابیت کہتے ہیں۔بہر حال علامتیں دیکھ کر فیصلہ کرنا پڑے گا۔نظام ہضم کے بگڑتے ہی ہومیو پیتھک طاقت میں میور بٹک ایسڈ دینا چاہئے کیونکہ یہ مذکورہ عدم توازن کو درست کرتا ہے۔جن مریضوں میں ہو میو پیتھک میوریٹک ایسڈ کی ضرورت پڑتی ہے ان کے اعصاب اور عضلات تیزابیت سے خواہ کتنا ہی متاثر ہو جائیں، ان کا دماغ بالکل صاف اور ٹھیک رہتا ہے۔لیکن ایسڈ فاس جن مریضوں میں کارگر ثابت ہوتا ہے ان کی علامتیں