ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 598
مرکزی 598 ملتی جلتی امراض تو ٹھیک ہو جائیں مگر جسم کے باقی عوارض کی علامتیں مہم ہو جائیں۔دانتوں کی بیماریوں میں بھی مرکزی بہت مفید ہے۔دانت بھر بھرے ہو کر مسوڑھوں سے الگ ہو جاتے ہیں اور ان کے درمیان بد بودار مادہ جمع ہونے لگتا ہے۔لہذا پائیوریا میں مرکزی مفید ثابت ہوتی ہے۔دانتوں کا سیاہ پڑ جانا اور جڑوں سے کھایا جانا کر ئوزوٹ کے علاوہ مرکسال کے دائرہ میں بھی ہے۔اگر دانتوں کی جڑیں کالی ہو رہی ہوں تو سٹیفی سیگر یا، مرکسال سے بہتر کام کرتی ہے۔وہ بچے جنہیں آ تشک کا مادہ وراثت میں ملا ہو ان کے دانت شروع میں ہی گل کر کالے ہو جاتے ہیں۔زبان موٹی اور پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اس کے اطراف میں دانتوں کے نشان بن جاتے ہیں۔منہ میں گہرے ناسور بننے کا رجحان پایا جاتا ہے۔چبانے اور چھونے سے مسوڑھوں میں درد ہوتا ہے۔منہ سے انتہائی خطرناک بد بو آتی ہے۔جو سارے کمرے میں محسوس کی جاسکتی ہے۔مرکزی میں منہ کا مزہ دھات کی طرح کا ہو جاتا ہے۔گلے میں سرخی اور سوزش پائے جاتے ہیں۔ہر وقت نگلنے کی طلب رہتی ہے کیونکہ منہ میں بہت رطوبت بنتی رہتی ہے۔موسم میں جو بھی تبدیلی واقع ہو، اس سے گلے میں سوزش اور جلن شروع ہو جائے ، گرم چیز پینے سے تکلیف بڑھ جائے، مائع چیزوں کے نگلنے میں دقت محسوس ہو اور ہر وقت گلے میں کچھ پھنسے ہونے کا احساس رہے جیسے ہیپر سلف میں پایا جاتا ہے تو یہ سب علامتیں مجموعی طور پر مرکری کا مطالبہ کرتی ہیں۔مرکزی کے مریض کی بھوک یا تو بہت بڑھ جاتی ہے یا بالکل ختم ہو جاتی ہے۔گوشت، کافی اور چکنائی سے نفرت ہو جاتی ہے۔مسلسل بھوک کے ساتھ کمزوری کا احساس بھی بڑھتا جاتا ہے۔دودھ اور میٹھی چیزوں سے معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ٹھنڈی چیزیں پینے کی بہت خواہش ہوتی ہے۔معدہ میں جلن، سوزش اور چھونے سے درد نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں۔نیکی لگ جاتی ہے۔ڈاکار بھی آتے ہیں۔معدہ میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔جگر کے مقام پر سوئیاں سی چیھتی ہیں۔دائیں طرف لیٹنے سے تکلیف بڑھتی