ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 597 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 597

مرکزی 597 جگہ جگہ کالے دھبے نظر آنے لگتے ہیں۔کبھی دائیں آنکھ کی نظر ختم ہو جاتی ہے اور کبھی بائیں کی۔مریض رفتہ رفتہ بالکل اندھا ہو جاتا ہے اور ایسے اندھے پن کا کوئی علاج معلوم نہیں۔آج کل شعاعوں کے ذریعہ علاج کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس سے عارضی فائدہ ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں مرک کار ایک لاکھ طاقت کی دو تین خوراکیں ایک ایک ماہ کے وقفہ سے اللہ کے فضل سے بہت فائدہ پہنچاتی ہیں۔مرض جہاں تک پہنچ چکا ہو وہیں ٹھہر جاتا ہے۔لیکن اکھڑے ہوئے ریٹینا کو دوبارہ جوڑ نا ممکن نہیں اس لئے لیزر (Laser) کے اپریشن کی لاز ما ضرورت پڑتی ہے۔بعض ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اگر ایسے مریضوں کو مر کسال چھوٹی طاقت میں دیا جائے تو ریٹینا کی بہت سی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔اس سلسلہ میں مزید تجربات کرنے چاہئیں۔مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں۔کانوں کی بیماریوں میں مرکزی کی خاص علامت پیپ کی بد بواور اس کا رنگ ہے جو سفید ہوتا ہے یا گہرے سبز رنگ کا گاڑھا مواد کان سے نکلتا ہے۔اندرونی اور بیرونی کان میں ورم ہوتا ہے۔اس سے کان کے پردہ میں شگاف ہو جائے تو قوت سامعہ متاثر ہوتی ہے۔بعض اوقات عام نزلہ میں بھی مرکسال سے فوری فائدہ ہوتا ہے لیکن یہ دوانزلہ کا سطحی علاج کرتی ہے، مزمن دوا نہیں ہے اس لئے اس پر بنا نہیں کرنی چاہئے۔اس کی بجائے عام نزلہ کے رجحان میں ، جس کو مرکزی سے آرام آئے ، مستقل طور پر کالی آئیوڈائیڈ دینی چاہئے۔کالی آئیوڈائیڈ کا ان گہری وجوہات سے تعلق ہے جو نزلاتی بیماریاں پیدا کرتی ہیں لیکن نزلاتی بیماریوں میں صرف یہی ایک دوا کافی نہیں ہے اور بھی متعدد دوائیں کام آ سکتی ہیں۔ڈاکٹر کینٹ نے مرکزی کے بارے میں متنبہ کیا ہے کہ اسے جلدی بیماریوں میں بار بار استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر ایسی بیماریوں میں اس کا زیادہ استعمال کیا جائے تو یہ باقی رہ جانے والے بد اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ممکن ہے کہ مرکری کا صرف ان مخصوص جلدی امراض سے تعلق ہو اور مریض کے سارے مزاج سے مطابقت نہ رکھتی ہو اس لئے