ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 553
لیکٹک ایسڈ 553 132 لیکٹک ایسڈ LACTICUM ACIDUM لیکٹک اینڈ ذیا بیس کی بہت عمدہ دوا ہے لیکن اس کا استعمال بہت کم ہوا ہے۔اگر دوسری دواؤں کے علاوہ لیکٹک ایسڈ دوسو طاقت میں دی جائے تو وہ مریض جو دوسری دواؤں کا اثر قبول نہیں کرتے اس کی وجہ سے وہ دوائیں بھی کام کرنے لگتی ہیں۔لیکٹک ایسڈ صبح کی متلی میں بہت مفید ہے خواہ یہ متلی حمل کی ہو یا ذیا بیطس کی وجہ سے۔لیلک ایسڈ میں متلی کو کچھ کھا لینے سے آرام ملاتا ہے۔کھانے کی نالی میں نیچے کی طرف تنگی کا احساس ہوتا ہے جیسے کوئی گولہ پھنسا ہو جسے مریض ہر وقت نگلنے کی کوشش کرتا ہے۔ایسی عورتیں جنہیں خون کی کمی کی شکایت ہو اور ان کا چہرہ زردرہتا ہو ان کے لئے بھی یہ دوا مفید ہے۔سینے کی تکلیفوں میں بھی اچھا اثر رکھتی ہے۔اگر بغلوں کے غدود بڑھ جائیں تو اس بیماری میں بھی لیکٹک ایسڈ مفید ہو سکتی ہے۔سلیشیا بھی بہت اچھا اثر دکھاتی ہے۔اونچی طاقت میں سلیشیا دینے سے گٹھلی اندر ہی اندر گھل جاتی ہے لیکن اگر گٹھلی پکنے کے قریب ہو تو پھر اونچی طاقت کی بجائے چھوٹی طاقت میں سلیشیایا ہسپر سلف دینی چاہئے۔لیکٹک ایسڈ کے بعض مریضوں کا سارا جسم کانپتا ہے۔پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے اور پیشاب مقدار میں بہت زیادہ آتا ہے۔جوڑوں، کندھوں، کلائیوں اور گھٹنوں میں درد ہوتا ہے۔سخت کمزوری اور سردی کا احساس ہوتا ہے۔زبان بالکل خشک، پیاس کی شدت اور بھوک کی زیادتی ہوتی ہے۔رائیں بہت زیادہ بہتی ہیں۔گلا بالکل خشک رہتا ہے اور پانی پینے سے بھی یہ خشکی ختم نہیں ہوتی۔دافع اثر دوا برائیونیا طاقت: 30