ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 21

ایسکولس 21 7 ایسکولس ہیپو کا سٹینم AESCULUS HIPPOCASTANUM (Horse Chestnut) ایسکولس کا سب سے نمایاں پہلو ذہنی انتشار ہے۔تھکاوٹ اور کمزوری کی وجہ سے دماغ میں اضطراب پیدا ہونا طبعی عمل ہے مگر ایسکولس ایسی دوا ہے جس میں سونے سے ذہنی انتشار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔جب مریض سو کر اٹھتا ہے تو اس کے دماغ میں الجھاؤ ہوتا ہے اور وہ سمجھ نہیں سکتا کہ وہ کہاں ہے، اس کے گردونواح میں کیا ہے اور کون لوگ ہیں۔اگر کسی نئی جگہ میں سو کر اٹھیں تو صحت مند انسان کا ذہن بھی بعض دفعہ الجھ جاتا ہے کہ وہ کہاں ہے۔یہ انتشار عارضی اور وقتی ہوتا ہے جو سفر کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔اگر مریض مستقل طور پر اس انتشار کا شکار ہو جائے، یادداشت میں کمی آجائے، طبیعت میں غم یا غصہ پایا جائے اور ہر کام سے نفرت ہونے لگے تو ایسکولس دوا ہے۔ایسکولس کی علامات رکھنے والے بچوں کی یادداشت کمزور ہوتی ہے۔طبیعت میں غصہ پایا جاتا ہے، نیند میں ڈر کر چونک اٹھتے ہیں، بہت حساس اور زودرنج ہو جاتے ہیں۔اگر ایسے بچے پر ناراضگی کا اظہار کیا جائے تو صدمہ سے مغلوب ہو کر بعض دفعہ وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔اور کئی دفعہ یہ بے ہوشی مرگی میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ایسکولس کو صرف بچوں کی دوا نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ ہر عمر میں کام آنے والی دوا ہے۔آنکھوں کی سرخی ایسکولس کی نمایاں علامت ہے۔آنکھ کے وہ ریشے جن میں خون گردش کرتا ہے کمزور ہو جاتے ہیں اور ذرا بھی دباؤ محسوس ہو تو آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔بعض ہو میو پیتھ ڈاکٹروں نے اس سرخی کو آنکھوں کی بواسیر قرار دیا ہے۔آنکھوں میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔پانی بہتا ہے، آنکھ کے پوٹوں اور بائیں آنکھ کے نچلے