ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 511
کالی فاس 511 پانچ چھ دفعہ دی جائے اور اونچی طاقت میں پائیر وجینم 200 اور ٹائیفائیڈ بینم 200 ملا کر دی جائے تو ٹائیفائیڈ کے ہر ایسے مریض کو جس کا قبض کی طرف رجحان ہو تو یہ نسخہ غیر معمولی فائدہ دیتا ہے۔کالی فاس کے مریض کو ٹھنڈے اور کھٹے مشروبات پسند ہوتے ہیں۔جگر اور انتڑیوں کی سوزش میں کالی فاس اچھی دوا ہے۔مریض کے کسی بات پر چڑ جانے سے انتڑیوں میں جو تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں انہیں کالی فاس ٹھیک کرتی ہے۔بعض دفعہ اچانک پیچش ہو جاتی ہے اور پیٹ میں بل پڑنے لگتے ہیں۔ایسی صورت میں کالی فاس کی ایک دو خوراکیں ہی بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔یاد رکھیں کہ اگر نظام ہضم اعصابی ہیجان کی وجہ سے خراب ہو تو کالی فاس ہی فائدہ دے گی۔اگر باقی مشابہ دوائیں ناکام ہو چکی ہوں تو اسے ضرور استعمال کرنا چاہئے۔عام طور پر کالی فاس، میگنیشیا فاس اور کلکیر یا فاس کو ملا کر ٹانک کے طور پر دیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی تکلیف کالی فاس کا واضح مطالبہ کرتی ہو تو دوسری دوائیں ملا کر دینے سے کالی فاس کا اثر کچھ کم ہو جاتا ہے۔اس صورت میں ہمیشہ یہ اصول پیش نظر رکھیں کہ جب تشخیص ٹھیک ہو اکیلی دوا اللہ کے فضل سے خوب نشانے پر بیٹھتی ہے۔ایک دو خورا کیس ہی مرض کے ازالہ کے لئے کافی ہوتی ہے۔فائدہ نہ ہو تو پھر دوسری دوائیں تلاش کریں۔بعض دواؤں کی علامتوں میں تکلیف دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں حرکت کرتی ہے۔کالی فاس میں لیکیس کی طرح بائیں سے دائیں طرف حرکت کا رجحان ہوتا ہے۔کالی فاس میں بیماری بائیں سے دائیں جانب منتقل نہیں ہوتی محض درد کے کوندے بائیں سے دائیں طرف لپکتے ہیں جبکہ لیکیسس میں خود بیماری کے بائیں سے دائیں منتقل ہونے کا رجحان ملتا ہے۔کالی فاس میں اگر کسی خوف اور دہشت کی وجہ سے اسہال شروع ہوں تو وہ پانی کی طرح پتلے اور سخت بدبودار ہوتے ہیں اور کمزوری پیدا کر دیتے ہیں۔کالی فاس کی پیچش میں اکثر خون کے بغیر آؤں ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی جب مرض بہت بڑھ جائے تو