ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 13

ایکونائٹ 13 ذہن میں آتے ہیں۔مزید علامات ظاہر ہونے کا انتظار کئے بغیر دونوں کو اکٹھا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک دوسرے کی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ہاں اگر کسی ایک دوا کی علامتیں بہت واضح ہوں تو دوسری دینے کی ضرورت نہیں۔مثلاً اگر بیلا ڈونا کی علامات بالکل واضح ہوں تو ایکونائٹ ساتھ ملانے کی کوئی ضرورت نہیں، یا اکیلی ہی بیماری پر غلبہ پالیتی ہے اور لمبے عرصہ تک کام کرتی ہے۔سردی لگنے کی وجہ سے اچانک کان میں شدید درد شروع ہو جائے تو بھی یہ دوا فوری اثر دکھاتی ہے۔ایکونائٹ میں ہر درد کے مقام پر دھڑکن کا احساس ہوتا ہے، مریض شور اور موسیقی وغیرہ بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔ایکونائٹ کی ایک خاصیت پلسٹیلا سے بھی مشابہ ہے۔بخار یا تکلیف کا اثر چہرے کے ایک طرف زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ایک گال سرخ ہو جاتا ہے اور ایک زرد۔عام طور پر بچوں میں یہ علامت نمایاں ہوتی ہے۔شروع میں ہی ایکونائٹ دے دی جائے تو بیماری فورا ختم ہو جائے گی۔اگر دیر ہو جائے تو پلسٹیلا، لائیکو پوڈیم یا نیٹرم میور میں سے شاید کوئی کام آئے۔دانتوں میں سردی کی وجہ سے درد ہو یا گلے میں تکلیف ہوتو بھی ایکونائٹ کی ضرورت ہوگی۔اگر جسم کے کسی حصہ میں خون کا دباؤ زیادہ ہو جائے تو اندرونی یا بیرونی جریان خون شروع ہو جاتا ہے مثلاً انٹریوں سے خون بہنے لگے گا۔کوئی بھی وجہ ہوا گر ایسا اچانک ہوا ہو اور خوف بھی ساتھ ہو تو بلا خوف ایکونائٹ استعمال کریں۔اگر کسی صدمہ کے نتیجہ میں پیشاب بند ہو جائے تو فوری طور پر پہلے ایکونائٹ دیں۔کسی عزیز کی اچانک وفات سے یا اچانک کوئی مالی صدمہ پہنچا ہو تا یکونائٹ کا فوری استعمال جسم کو اس کے بداثر سے بچالیتا ہے۔بعض ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ایکونائٹ عورتوں کی بیماریوں میں مردوں کی نسبت زیادہ موثر ہوتی ہے۔اگر عورتوں کی اندرونی متکالیف اور رحم کی سوزش وغیرہ کے آغاز میں ایکونائٹ دے دیں تو اللہ کے فضل سے بیماریاں آگے نہیں بڑھیں گی۔