ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 415

گریشولا 415 ہے کہ مریض میں خون کی کمی ہے یا اس کے خون کا دباؤ کم ہے۔معدہ کی ایک عام بیماری متلی اور پیٹ میں ہوا کا اکٹھا ہو جاتا ہے۔گریٹولا کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ کھانا کھانے کے ساتھ ہی متلی ختم ہو جاتی ہے۔اگر متلی ہو تو عموماً اس میں کھانا کھانے کو دل نہیں چاہتا لیکن گریشولا میں یہ عجیب علامت ہے کہ متلی کا علاج ہی کھانا کھانا ہے۔اگر معدہ میں تیزابیت ہو تو وقتی طور پر کھانا کھانے سے فائدہ ہوتا ہے مگر کچھ دیر کے بعد تکلیف بڑھ جاتی ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب معدہ میں تیزابیت ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور ہی ہائیڈروکلورک ایسڈ (Hydrochloric Acid) کی زیادتی ہوگئی ہو۔بسا اوقات اس تیزاب کی کمی کی وجہ سے بھی کھانا ہضم نہیں ہوتا جو گل سڑ کر دوسرے غلط قسم کے تیز اب پیدا کرتا ہے۔تیزاب کی زیادتی کی صورت میں تیزابیت عموماً اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ڈکار یا ہلکی سی ابکائی کے ساتھ تیز اب ابھر کر اوپر پہنچتا ہے، گلے کے قریب پہنچ جائے تو وہاں کھٹاس محسوس ہوتی ہے جبکہ معدہ میں کھٹاس کا اور تیزابیت کا کوئی احساس نہیں ہوتا اور معدہ میں جلن کی بجائے دل میں جلن اور سکرن کا احساس ہوتا ہے جیسے بعض نالیاں بند ہوگئی ہوں۔یہ عموماً تیزابیت کی علامت ہوتی ہے نہ کہ دل کی خرابی کی۔گرینولا میں جلن کا احساس ہر جگہ محسوس ہوتا ہے۔بعض دفعہ اندرونی جلن اور سوزش ایسی خواہشات کو ابھار دیتی ہیں جو غیر طبعی ہوتی ہیں۔مریض خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا علاج گریشولا سے ممکن ہے۔گریشولا کے مریض میں خصوصاً اجابت کے بعد دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔یہ گریشولا کی خاص نشانی ہے۔ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کو چاہئے کہ سب ملتی جلتی علامتیں رکھنے والی دواؤں کو دماغ میں اکٹھا محفوظ رکھنے کا گر سیکھیں تا کہ ضرورت کے وقت یاد آ جائیں۔پھر ان سب کی علامات کا گہرائی میں جائزہ لے کر ایک دوسرے سے تفریق کرنی سیکھیں۔اگر یہ نہیں کریں گے تو ذہن میں ہر وقت الجھن ہے گی کہ کہیں سی علامت پڑھی توقفی لیکن کچھ یاد نہیں آئے گا، پھر تک بازی سے کام لینا پڑے گا۔اس