ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 414
گریشولا 414 ہوئی نہ ہو بلکہ بہت نمایاں ہو تو گریشولا سے علاج شروع کرنا چاہئے۔گریتولا کا مزاج گرمی اور سردی کے لحاظ سے پلسٹیلا سے ملتا ہے۔نیز یہ بائیں طرف کی بیماریوں کی دوا ہے۔اس لحاظ سے یہ کیس سے مشابہ ہے۔اس میں جنسی اعضاء کا ہیجان اگر چہ ٹرینولا سے ملتا جلتا ہے مگر ٹرینٹولا کی تکلیفیں دائیں طرف زور دکھاتی ہیں اور گریشولا کی بائیں طرف۔یہ تکلیفیں جامد ہوتی ہیں لیکیس کی طرح بائیں سے دائیں طرف حرکت نہیں کرتیں۔گریٹوں بعض قسم کے نزلہ زکام میں بھی بہت کارآمد دوا ہے۔اس کا نزلہ اگر معد و پر گرے تو ساتھ ہی تشیخ ہو جاتا ہے۔اچانک بل پڑنے اور سکڑنے کا احساس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ یہ معدہ کی عام خرابی کی بھی دوا ہے۔گرینشولا کے مریض کے معدہ کی خرابی میں اوپر کا ہونٹ سوج جاتا ہے۔یہ علامت پلسٹیلا میں بھی پائی جاتی ہے۔گریشولا بعض اوقات کا فیا کا اثر زائل کر دیتی ہے۔اسی طرح کا فیا بھی اس کا اثر زائل کرتی ہے۔ان دونوں دواؤں کی علامتیں ملتی ہیں۔اگر چہ کافیا کی اعصابی کمزوری میں وہ جوش نہیں پایا جا تا جوگر پیشوا کا خاص نشان ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ گریتولا کا فیا سے مشابہ دوا ہے۔ایک بات واضح ہے کہ اگر رات کے پہلے حصہ میں نیند نہ آئے اور کافیا کی دوسری علامتیں موجود نہ ہوں تو یہ گریشولا کی علامت ہے۔گریشولا میں گلے کے درد میں نگلنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔بعض ایسی دوائیں ہیں جن میں گلے کے درد میں نگلنے سے اضافہ ہو جاتا ہے لیکن گریشو لا میں نگلنے سے قدرے افاقہ ہوتا ہے۔اس لئے ایسا مریض بار بار گھونٹ بھرتا ہے کہ درد میں کمی ہو۔گریشولا میں چکر بھی آتے ہیں جن کا عموماً کھانے سے تعلق ہوتا ہے۔کھانا کھاتے ہوئے چکر آتے ہیں اور کھانے کے بعد چکر زیادہ ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ آنکھیں بند کرنے سے، پڑھنے سے اور بیٹھ کر اٹھنے سے بھی چکر آتے ہیں۔ان علامتوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا